قومی خبریں

’جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا، لیکن ایران دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا‘، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا بیان

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ ایران مضبوط پوزیشن میں ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی دباؤ یا جارحیت کے آگے نہیں جھکے گا

<div class="paragraphs"><p>ایرانی صدر مسعود پیزشکیان۔ تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان۔ تصویر ’انسٹاگرام‘

 

تہران: ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، کیونکہ ان کے بقول ایران اس وقت امریکہ کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کی بات کو کسی بھی طرح جارحیت کے سامنے ایران کے سرنڈر کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق مسعود پیزشکیان نے کہا کہ پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ نے جنگ کے دوران تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس کے باعث دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی صدر نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کو ایک ’’بڑی کامیابی‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران اپنی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے بہتر پوزیشن میں ہے۔

پیزشکیان نے تاہم اس بات پر زور دیا کہ ان کا جنگ ختم کرنے کا موقف کسی ممکنہ جارحیت کے سامنے جھکنے کا اشارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت ’’دھونس اور دباؤ‘‘ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ ان کے بقول ایران اپنی آخری سانس تک مخالفین کے خلاف کھڑا رہے گا اور کسی بھی حملے کا سخت جواب دے گا۔

دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے بھی خبردار کیا ہے کہ دشمنوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا نئے خطرے کا جواب انتہائی سخت ہوگا۔ میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران کی وزارت دفاع نے گزشتہ برسوں میں محض فوجی سازوسامان کی پیداوار تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک مؤثر دفاعی صنعتی انقلاب بھی برپا کیا ہے۔

ایرانی قیادت کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی حکام نے ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے فوجی کارروائیوں کے بجائے اقتصادی دباؤ پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔

پیزشکیان کے بیان سے ایک جانب ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے آمادگی کا اشارہ ملتا ہے، تاہم دوسری جانب ان کے سخت الفاظ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تہران کسی بھی مذاکراتی عمل کو اپنی دفاعی پوزیشن کمزور کرنے کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔