قومی خبریں

ایران-امریکہ امن مذاکرہ: ’ایران نے سبھی شرطیں مان لیں‘، امریکی صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ کی جانب سے کی گئی (آبنائے ہرمز پر) ناکہ بندی دراصل صرف ناکہ بندی نہیں تھی بلکہ ایک اسٹیل کی دیوار تھی۔ ہمارے اہلکار ناقابل یقین ہیں۔ ایک بھی جہاز ایران تک نہیں پہنچ سکا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ

 

امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں ہونے والے امن معاہدہ سے متعلق مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات (مقامی وقت کے مطابق) کو دعویٰ کیا کہ ایران نے تقریباً تمام ضروری شرائط تسلیم کر لی ہیں۔ انہوں نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’کئی ماہ سے جاری علاقائی کشیدگی اور امریکی حملوں کے بعد ایران فوجی لحاظ سے ’مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے‘۔تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں امریکی فوج نے مسلسل 3 راتوں تک ایران پر حملے کیے۔‘‘

Published: undefined

’سی این بی سی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران-امریکہ جنگ اور امن معاہدہ کے بارے میں کئی باتیں کھل کر سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’امریکہ نے حملوں کے دوران ایران کے رڈار نظام کو بار بار تباہ کیا ہے۔ جب بھی ایران نے نیا رڈار نصب کرنے کی کوشش کی، امریکہ نے اسے دوبارہ تباہ کر دیا۔ گزشتہ ہفتہ بھی ہم نے اسے تباہ کیا، اب انہیں تیسری بار پھر سے کوشش کرنی ہوگی۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ آئندہ کارروائی کے لیے تیار ہے، تو ٹرمپ نے جواب دیا ’’ہمارے پاس تمام وسائل موجود ہیں۔‘‘

Published: undefined

آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کو ’اسٹیل کی دیوار‘ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا جی ’’امریکہ کی جانب سے کی گئی ناکہ بندی دراصل صرف ناکہ بندی نہیں تھی بلکہ ایک اسٹیل کی دیوار تھی۔ ہمارے پاس عظیم بحریہ ہے، دنیا کی سب سے عظیم بحریہ۔ ہمارے اہلکار ناقابل یقین ہیں۔ ایک بھی جہاز ایران تک نہیں پہنچ سکا۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت بری طرح کمزور ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’وہاں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے، وہ کچھ بھی کما نہیں رہے۔ ان کی اعلیٰ قیادت جا چکی ہے، دوسرے درجے کی قیادت بھی جا چکی ہے، تیسرے درجے کے بعض لیڈران بھی ختم ہو چکے ہیں، اور ان کی فوج کے بیشتر جنرل بھی مارے جا چکے ہیں۔‘‘

Published: undefined

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی انتظامیہ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے گریز کیا کیونکہ اس کے عالمی تیل کی منڈیوں پر سنگین اثرات مرتب ہوتے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اگر میں سخت مؤقف اختیار کرنا چاہتا اور آئندہ چند برسوں کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر دیتا، جہاں سے دنیا کے 20 یا 21 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو پھر وہ تیل دنیا تک نہیں پہنچتا۔ آپ کو تیل نہیں ملتا، تیل کی قیمت 350 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی اور عالمی کساد بازاری آ جاتی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے آئل ٹینکرز کو بحفاظت نکالا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہر رات ہم جہازوں کو جنوبی راستے سے نکال رہے تھے۔ ایک رات ہم نے 22 جہازوں کو باہر نکالا۔ اس میں بہت بڑی مقدار میں تیل موجود تھا، لیکن کسی کو اس بارے میں معلوم ہی نہیں ہوا۔‘‘

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined