
جسٹس یشونت ورما، تصویر سوشل میڈیا
جسٹس یشونت ورما پر لگے سنگین الزامات کی جانچ کر رہی کمیٹی نے اپنی رپورٹ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو سونپ دی ہے۔ یہ رپورٹ پیر کو پیش کی گئی۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے منگل کو بتایا کہ اس رپورٹ کو جلد ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ امید ہے کہ جولائی کے تیسرے ہفتے میں شروع ہونے والے مانسون اجلاس میں رپورٹ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
یہ پورا معاملہ 14 مارچ 2025 کی رات کا ہے۔ اس وقت جسٹس ورما کی دہلی واقع سرکاری رہائش گاہ پر آگ لگنے کی واردات کے دوران آگ بجھانے پہنچے اہلکاروں کو یہاں ایک اسٹور روم میں جلی ہوئی حالت میں بھاری مقدار میں نقدی ملی تھی۔ جسٹس ورما اس وقت دہلی ہائی کورٹ میں جج تھے۔ نقدی معاملہ سرخیوں میں آنے کے بعد انہیں ان کے اصل ہائی کورٹ یعنی الہ آباد ہارلی کورٹ بھیج دیا گیا تھا۔
Published: undefined
اس واقعے کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سنجیو کھنہ نے معاملے کی جانچ کے لیے ایک داخلی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ جس اسٹور روم میں پیسہ چھپایا گیا تھا، اس پر جسٹس ورما کا کنٹرول تھا۔ اس کے بعد جولائی 2025 میں 200 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ نے انہیں عہدے سے ہٹانے کی قرار داد پر دستخط کیے۔ قوانین کے مطابق سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو صرف پارلیمنٹ ہی ہٹا سکتی ہے۔ اس کے لیے ججز انکوائری ایکٹ 1968 کے تحت عمل اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اسی بنیاد پر لوک سبھا اسپیکر نے 12 اگست 2025 کو 3 رکنی ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
Published: undefined
پارلیمنٹ کے ذریعہ ہٹائے جانے کے امکان کو دیکھتے ہوئے جسٹس ورما نے حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ استعفیٰ کے بعد انہیں عہدے سے ہٹانے کی کارروائی کا اب کوئی خاص مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے کے مطابق جب کوئی جج صدر کو اپنا استعفیٰ بھیج دیتا ہے اور اسے عام کردیتا ہے تو اسے مستعفی مانا جاتا ہے۔ اس کے لیے صدر کی باقاعدہ منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
Published: undefined
حالانکہ جسٹس ورما کا نام ابھی بھی الہ آباد ہائی کورٹ کے موجودہ جج کے طور پر درج ہے لیکن قانونی طور پر وہ اب ایک عام شہری بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کسی سابق جج کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتی۔ جسٹس ورما کی مدت کار 5 جنوری 2031 تک تھی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنا کام اس وقت شروع کیا جب وہ جج تھے۔ اس لیے ان کے استعفے کا کمیٹی کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کمیٹی کی تحقیقات کو عدالتی کام مانا جاتا ہے۔ اب پارلیمنٹ کو طے کرنا ہے کہ رپورٹ پیش ہونے کے بعد آگے کیا قدم اٹھایا جائے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined