قومی خبریں

اجین میں شاہی مسجد کمیٹی کو اندور ہائی کورٹ نے دیا دھچکا، توڑ پھوڑ روکنے کی عرضی خارج

شاہی مسجد کمیٹی نے ذیلی عدالت یا متعلقہ اتھارٹی کے حکم کے خلاف یہ عرضی داخل کی تھی، جس میں مسجد کے حصے کو توڑنے پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>مدھیہ پردیش ہائی کورٹ اندور بنچ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ اندور بنچ، تصویر سوشل میڈیا

 

اندور ہائی کورٹ کی ڈبل بنچ نے اجین شاہی مسجد کمیٹی کے ذریعہ داخل عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے انتظامیہ کو سڑک کی چوڑائی بڑھانے سے متعلق پروجیکٹ کو آگے بڑھانے اور مسجد کے ایک حصہ کو توڑنے کی اجازت دینے والے حکم پر روک لگانے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلہ کے بعد انتظامیہ اب سڑک چوڑی کاری کے کام میں مسجد کے ایک حصہ کو ہٹانے کا عمل آگے بڑھا سکتا ہے۔

شاہی مسجد کمیٹی نے ذیلی عدالت یا متعلقہ اتھارٹی کے حکم کے خلاف یہ عرضی داخل کی تھی، جس میں مسجد کے حصے کو توڑنے پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حالانکہ ڈبل بنچ نے اس اپیل کو قبول کرنے سے منع کر دیا۔ کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ مسجد کے کسی بھی حصے کو گرائے جانے سے روکا جائے۔ اس معاملہ پر ڈبل بنچ نے دونوں فریقین کی دلیلوں پر غور کرنے کے بعد کمیٹی کے ذریعہ داخل اس عرضی کو خارج کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت کے اس سخت رخ کے بعد انتظامیہ کے لیے سڑک کی چوڑائی بڑھانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اجین میں ’سنہستھ 2028‘ کی تیاریوں کے تحت کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک تقریباً 900 میٹر طویل راستہ کو 15 میٹر چوڑا کرنے کا عمل جاری ہے۔ سڑک کی چوڑائی بڑھانے کے عمل میں 7 مذہبی مقامات نشان زد کیے گئے تھے، جن میں سے بیشتر کے متاثرہ حصوں کو پہلے ہی ہٹایا جا چکا ہے۔ قریب میں واقع بوہرہ سماج کی مسجد کو بھی آپسی اتفاق سے ہٹا لیا گیا تھا، لیکن اب سارا تنازعہ شاہی مسجد کے حصے سے متعلق گہرایا ہوا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ شب انتظامیہ اور شہر قاضی خلیق الرحمن کے درمیان ہوئی میٹنگ میں مسجد کے متاثرہ حصہ کو ہٹانے پر آپسی رضامندی بنی تھی۔ معاہدہ کے تحت یہ طے ہوا تھا کہ انتظامیہ کی مشینوں سے سیدھے توڑ پھوڑ کرنے کی جگہ مسجد انتظامیہ سے جڑے لوگ خود ہی سڑک کی زد میں آ رہے حصے کو ہٹائیں گے۔ اتفاق قائم ہونے کے بعد پیر کی صبح مسلم سماج کے کچھ لوگوں نے متاثرہ حصہ کو ہٹانے کا کام شروع بھی کر دیا، لیکن اچانک کچھ دیگر لوگوں نے اس توڑ پھوڑ کے خلاف احتجاج درج کرایا۔ مقامی سطح پر میسجز وائرل ہونے کے بعد مسجد اور اس کے آس پاس اچانک لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی۔

پولیس کے مطابق جمع بھیڑ میں سے کچھ لوگوں نے بیریکیڈنگ کو دھکیل کر ممنوعہ علاقہ میں گھسنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور بھیڑ کی طرف سے پتھراؤ شروع ہو گیا۔ حالات پر قابو پانے اور شورش پسندوں کو کھدیڑنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے اور ہلکی طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑا۔ اس پتھراؤ میں کچھ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی جانکاری سامنے آئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اب تک 10 مشتبہ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے 5 لوگ سوشل میڈیا پر گمراہ کن باتیں پھیلانے کے ملزم ہیں، جبکہ دیگر 5 باہری لوگ ہیں جو اجین کے باشندہ نہیں ہیں، پھر بھی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈرون فوٹیج کی بنیاد پر پتھراؤ کرنے والوں کی بھی شناخت کی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔