
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے مسائل پر منعقدہ پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت اور تعلیمی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام نوجوانوں سے ناانصافی کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں ہونے والے متعدد پیپر لیک واقعات، مہنگی تعلیم اور روزگار کے محدود مواقع نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں طلبہ پرامن احتجاج کر رہے ہیں، لیکن ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف ایک منصفانہ اور قابل اعتماد تعلیمی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس میں ان کی محنت اور صلاحیت کو اہمیت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں کم از کم 152 پیپر لیک کے واقعات سامنے آئے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ایک بھی شخص کو سزا نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق، یہ صرف وہ اعداد و شمار ہیں جو منظر عام پر آئے ہیں، جب کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کئی کئی برس تک سخت محنت کرتے ہیں، لیکن امتحان سے قبل پیپر لیک ہونے کی خبر ان کے خواب چکنا چور کر دیتی ہے۔
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ پیپر لیک کے باعث تقریباً سات کروڑ طلبہ اور ان کے اہل خانہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متوسط اور غریب طبقے کے خاندان اپنی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، لیکن حکومت ان کے مستقبل کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے تعلیمی نظام کو "غیر منصفانہ اور ناقابل برداشت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک امتحان، نیٹ، کی تیاری اور اس سے متعلق اخراجات پر خاندان تقریباً اتنی ہی رقم خرچ کرتے ہیں، جتنی حکومت پورے ملک کے تعلیمی بجٹ میں مختص کرتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال متوسط طبقے اور غریب خاندانوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ کمزور ہو چکا ہے، کاروبار شروع کرنے کے لیے بینکوں سے قرض حاصل کرنا عام نوجوان کے لیے تقریباً ناممکن ہے، جبکہ نجی اور کارپوریٹ شعبوں میں بھی ملازمتوں کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں سرکاری ملازمتیں ہی نوجوانوں کی آخری امید رہ جاتی ہیں، لیکن وہاں بھی امتحانی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہوئے تین اہم مطالبات پیش کیے۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے فوری طور پر ہٹایا جائے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دھرمیندر پردھان ایک ناکام وزیر تعلیم ثابت ہوئے ہیں اور انہیں اس بحران کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ طلبہ پر تشدد کرنے والے تمام افراد، خواہ وہ احکامات دینے والے ہوں یا ان پر عمل کرنے والے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران طلبہ پر لاٹھی چارج، پیلٹ گن کے استعمال اور دیگر مبینہ زیادتیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ملک کے دشمن نہیں بلکہ مستقبل ہیں۔
تیسرے مطالبے کے تحت انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے اور یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جو کچھ ہوا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق، حکومت کی جانب سے ایک معذرت نوجوانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی سے گزشتہ روز وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر اپوزیشن کے احتجاج کے دوران ان کے ساتھ پیش آئے سلوک سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ اپنی ذاتی تکلیف کو اہم مسئلہ نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق، اصل مسئلہ طلبہ کا مستقبل، پیپر لیک اور تعلیمی نظام کی خرابیاں ہیں، جن پر توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر طلبہ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں تو اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ حکومت اس معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا مقصد اسے پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے مرکزی مسئلے کے طور پر برقرار رکھنا ہے۔
راہل گاندھی نے واضح کیا کہ طلبہ کے تینوں مطالبات پر وہ اور پوری اپوزیشن متحد ہیں اور ان مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور اپوزیشن نوجوانوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔