قومی خبریں

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ کے درمیان ہندوستان نے دیگر ممالک سے خام تیل کی خرید میں اضافہ کیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ اور آبنائے ہرمز سے تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر ہندوستان نے امریکہ، روس اور مغربی افریقہ سمیت دیگر علاقوں سے اضافی خام تیل کی خریداری شروع کر دی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے پس منظر میں ہندوستان نے توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دیگر ممالک سے خام تیل کی خرید میں اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہندوستانی کمپنیاں امریکہ، روس اور مغربی افریقہ میں واقع سپلائر ممالک سے اضافی خام تیل خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خلل سے نمٹا جا سکے۔

یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک نہایت اہم سمندری راستہ تصور کی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فروری کے مہینے میں ہندوستان کے کل خام تیل کی درآمد کا تقریباً نصف حصہ اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے ملک تک پہنچا تھا۔

Published: undefined

ہندوستان اپنی خام تیل کی مجموعی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے توانائی کی رسد کے مستحکم راستوں کا برقرار رہنا ملک کی توانائی سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے کئی ریفائنریوں نے اپنی طے شدہ مرمتی سرگرمیوں کو مؤخر کر دیا ہے اور عام رفتار سے تیل کی پروسیسنگ جاری رکھی ہوئی ہے تاکہ آئندہ مہینوں میں ایندھن کی طلب کو پورا کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے باہر کے ذرائع پوری طرح فعال ہیں اور ہندوستان اس وقت نسبتاً پرامن علاقوں سے زیادہ مقدار میں تیل حاصل کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سال 2025 میں ہندوستان کے خام تیل کی درآمد کا تقریباً 60 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے باہر کے راستوں سے آیا تھا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد یہ حصہ بڑھ کر تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ایک عارضی چھوٹ نے بھی رسد کی صورتحال کو سہارا دیا ہے۔ اس رعایت کے تحت 5 مارچ سے پہلے جہازوں پر لادے گئے پابندی زدہ روسی خام تیل کی فروخت اور ترسیل کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ رعایت 5 اپریل تک مؤثر رہے گی اور اس سے پہلے سے سفر میں موجود کارگو کو پابندیوں کی خلاف ورزی کے بغیر منزل تک پہنچایا جا سکے گا۔

ادھر مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باوجود ہندوستان کی توانائی کی رسد مستحکم ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں بھی ملک توانائی کی دستیابی، استطاعت اور استحکام کو برقرار رکھنے کے چیلنج کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے راستے کے علاوہ دیگر تمام راستوں سے توانائی کی درآمد جاری ہے اور ملک کے شہریوں کی توانائی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان مضبوط پوزیشن میں ہے اور تشویش یا قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined