
انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کے لیڈران، تصویر سوشل میڈیا
اپوزیشن پارٹیاں ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف زوردار انداز میں آواز اٹھا رہی ہیں۔ گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک نے آج ’علامتی پارلیمنٹ‘ منعقد کر ’عوامی مواخذہ‘ کا پروگرام بنایا تھا، لیکن اب یہ پروگرام 31 اکتوبر کو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس پروگرام کو ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا ہے، اور یہ جانکاری بھی دی ہے کہ کل دوپہر یہ عمل انجام دیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ یہ پروگرام ’ووٹ چوری‘ کے معاملہ پر اپوزیشن کے علامتی احتجاج کا حصہ ہے۔ اب اس پروگرام کا انعقاد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر کل کیا جائے گا۔ اطلاع کے مطابق پروگرام دوپہر 3.30 بجے شروع ہوگا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اسے ’گیانیش کمار کا عوامی مواخذہ‘ نام دیا ہے۔ اس میں انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ اور لیڈران کی شرکت ممکن ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار اس پروگرام کی صدارت کریں گی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اس پروگرام میں گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تجویز پیش کریں گے۔ اس کے بعد راہل گاندھی اپنی بات رکھیں گے۔ آخر میں اس تجویز کو منظور کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ انڈیا بلاک کی ہر پارٹی کی جانب سے ایک لیڈر اس موقع پر اپنی بات رکھے۔
اس سے قبل جمعرات کو اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے کھڑگے کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی تھی۔ اس میں پروگرام کی تیاریوں اور اس کے خاکہ کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ میٹنگ میں پرینکا گاندھی واڈرا، جئے رام رمیش، کے سی وینوگوپال، میرا کمار، ترنمول کانگریس کے ڈیریک اوبرائن، سماجوادی پارٹی کے ہریندر ملک، جے ایم ایم کی مہوا مانجھی اور سی پی آئی (ایم) کے جان بریٹاس سمیت کئی لیڈران شامل ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ کانگریس اور انڈیا بلاک کی دیگر پارٹیاں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے لگاتار سوال کر رہی ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلی کے دوران بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس سے قبل الزام لگایا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئین کی روح کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ گیانیش کمار نے سپریم کورٹ کے سامنے غلط باتیں پیش کیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔