قومی خبریں

’کِرشی بھون‘ میں موجود مسجد ہٹائے جانے سے متعلق مرکزی حکومت کے حلف نامے پر عمران مسعود برہم

رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے سوال اٹھایا کہ اگر مساجد کو ہٹانے کے لیے سیکولرازم کی دلیل دی جا رہی ہے تو سرکاری دفاتر، پولیس تھانوں اور پولیس لائنوں میں موجود مندروں کا کیا ہوگا؟

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر عمران مسعود، ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس لیڈر عمران مسعود، ویڈیو گریب

 

راجدھانی دہلی کے ’کِرشی بھون‘ احاطے میں واقع 100 سال سے زیادہ پرانی ’قدیمی مسجد‘ کو ہٹائے جانے سے متعلق مرکزی حکومت کے موقف پر سیاسی تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کہا ہے کہ کرشی بھون اور مرکزی سکریٹریٹ سرکاری کام کاج کے لیے مختص سیکولر احاطے ہیں۔ ایسے میں یہاں کسی مستقل مذہبی ڈھانچے کو برقرار رکھنا سرکاری املاک کی سیکولر حیثیت کے مطابق نہیں ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ سینٹرل وسٹا کی ازسرنو ترقی منصوبے کے تحت مسجد کو ہٹانا ضروری ہے۔

مرکزی حکومت کے اس موقف پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مساجد کو ہٹانے کے لیے سیکولرازم کی دلیل دی جا رہی ہے تو سرکاری دفاتر، پولیس تھانوں اور پولیس لائنوں میں بنے مندروں کا کیا ہوگا؟ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ ملک مشترکہ ثقافت اور عقائد کا ملک ہے۔ یہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر تہوار مناتے ہیں۔ انہوں نے مسلم برادری سے امن و امان برقرار رکھنے اور نفرت پھیلانے والی سیاست میں نہ الجھنے کی اپیل بھی کی۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ ملک میں یہ کیا تماشہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریس کورس میں مسجد ہٹائیں گے، یہاں سے مسجد ہٹائیں گے، وہاں سے مسجد ہٹائیں گے، سہارنپور کی مسجد کو منہدم کریں گے۔ ملک میں کیا تماشہ چل رہا ہے؟ یہ عقائد کا ملک ہے۔ عمران مسعود نے سوال کیا کہ اگر آج مسجد ہٹانے کی بات ہو رہی ہے تو کل ان مقامات پر موجود مندروں کو ہٹانے کا حکم عدالت دے گی، تب کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے الگ قانون ہو اور دوسرے طبقات کے لیے الگ قانون۔ عمران مسعود نے کہا کہ اگر حکومت کی دلیل یہ ہے کہ سرکاری احاطے میں مذہبی ڈھانچہ ہونے سے سیکولر کردار متاثر ہوتا ہے، تو یہ اصول و ضوابط مساوی طور پر سبھی مذاہب پر نافذ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کون سا تھانہ ہے، جہاں مندر نہیں ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پولیس تھانوں اور پولیس لائنوں میں بنے مندروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں مذہبی عقائد کے حوالے سے ایک مشترکہ نظام اور روایت رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مساجد کو ہٹانے کا راستہ کھولا جا رہا ہے تو کیا اسی بنیاد پر مندروں کو بھی ہٹایا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ جب آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سے سیکولر کردار متاثر ہو رہا ہے تو ایسا کون سا تھانہ ہے، جہاں مندر تعمیر نہیں کی گئی ہے؟ عمران مسعود نے کہا کہ کوئی ایسی جنم اشٹمی نہیں ہوتی جو پولیس لائن میں نہ منائی جاتی ہو۔ ان کے مطابق مذہبی روایات ملک کی مشترکہ ثقافت کا حصہ ہیں اور انہیں کسی ایک برادری کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

حکومت کے مطابق مرکزی انتظامی علاقے کی سرکاری زمین کو کسی مستقل مذہبی تخصیص کے تحت نہیں رکھا جا سکتا۔ مرکز نے یہ بھی کہا ہے کہ سینٹرل وسٹا کی ازسرنو ترقی کے ماسٹر پلان کے تحت کامن سینٹرل سکریٹریٹ کی عمارتیں 4 اور 5 تعمیر کی جانی ہیں۔ یہ منصوبہ کرشی بھون اور شاستری بھون کی موجودہ جگہ پر مجوزہ ہے۔ مسجد اسی منصوبے کے مقام پر واقع ہے اور تعمیراتی کام مکمل کرنے کے لیے اسے ہٹانا ضروری ہے۔ حکومت نے حلف نامے میں یہ دلیل بھی دی ہے کہ مسجد کی دیکھ بھال کرنے والی کمیٹی کو 8 نومبر 1940 کے ایک معاہدے کے تحت احاطے میں مسجد کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔ اس معاہدے کے ذریعے کمیٹی کو زمین کی ملکیت کا حق حاصل نہیں ہوا۔ مرکز کے مطابق زمین کی ملکیت حکومت ہند کے پاس ہے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا ہے کہ انڈیا گیٹ کے قریب شاہی مسجد ضابطہ گنج موجود ہے، جو کرشی بھون سے تقریباً 2 کلومیٹر کے دائرے میں واقع ہے اور نماز ادا کرنے والوں کے لیے دستیاب ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔