قومی خبریں

’سرکاری ناکامی پر سوال کرو گے تو جواب دھمکی اور ٹارچر سے ملے گا‘، گلزار سنگھ کی خودکشی پر راہل نے عآپ کو بنایا ہدف تنقید

راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’حکومت کا کام عوام کو جواب دینا ہے، سوال پوچھنے والوں کو کچلنا نہیں۔ گلزار سنگھ جی کے اہل خانہ کو جلد از جلد انصاف ملے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا

 

پنجاب میں گلزار سنگھ کی خودکشی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ ریاست کی اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ایک سوال کی قیمت موت ہے۔ اب اس معاملے میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کردہ ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’پنجاب کی عآپ حکومت میں ایک خطرناک پیٹرن نظر آ رہا ہے، سرکاری ناکامی پر سوال کرو گے تو جواب دھمکی اور ٹارچر سے ملے گا۔‘‘

راہل گاندھی اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’اپنے بیٹے کو نشے کا شکار بنتے دیکھنے والے، دلت طبقہ سے آنے والے گلزار سنگھ جی نے وزیر خزانہ سے صرف اتنا پوچھا کہ حکومت ڈرگس کا کاروبار روکنے میں اتنی بری طرح ناکام کیوں ہے؟ بس اس بات پر انہیں اتنا ہراساں اور ذلیل کیا گیا، معافی مانگنے کے لیے اتنا دباؤ بنایا گیا کہ انہوں نے زہر کھا لیا۔ ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال بھٹکتے ہوئے اور علاج کی عدم دستیابی کے باعث آخرکار وہ زندگی کی جنگ ہار گئے۔‘‘

کانگریس رہنما راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’گزشتہ ہفتہ میں نے ایک نوجوان موہن جیت سنگھ سے بھی بات کی، جنہیں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے خلاف احتجاج کرنے پر ہراساں کیا گیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کا کام عوام کو جواب دینا ہے، سوال پوچھنے والوں کو کچلنا نہیں۔ گلزار سنگھ جی کے اہل خانہ کو جلد از جلد انصاف ملے۔ وزیر اعلیٰ فوری طور پر وزیر خزانہ کا استعفیٰ لیں اور یقینی بنائیں کہ ایک آزدانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیق ہو، جس کی ایف آئی آر میں ان کا نام درج کیا جائے۔‘‘

دوسری جانب پنجاب کے سنگرور میں گلزار سنگھ کی خودکشی کے معاملے میں پولیس نے 5 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ لکھوندر سنگھ عرف لکھا ولد گلزار سنگھ (متوفی) کے بیان پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ جن لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی ان میں بلجیت سنگھ عرف راج (سرپنچ)، سکھدیو سنگھ عرف سکھا (کنڈکٹر)، وکی سنگھ (پنچایت ممبر)، گونا سنگھ ولد بابو سنگھ اور بلجندر کور (سرپنچ) شامل ہیں۔ ایف آئی آر نمبر 24، بتاریخ 08.09.2026 دفعہ 108 بی این ایس اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 3(1)(آر)(ایس) کے تحت تھانہ دِڑبا میں معاملہ درج کیا گیا۔ الزام ہے کہ ان لوگوں نے گلزار سنگھ پر معافی کے لیے دباؤ بنایا تھا جس کی وجہ سے گلزار سنگھ نے خودکشی کر لی۔

قابل ذکر ہے کہ سنگرور ضلع کے تورنبجارا گاؤں میں 50 سالہ گلزار سنگھ نے پنجاب کے وزیر خزانہ ہرپال سنگھ چیما کے جلسہ میں سرعام ڈرگس کی فروخت کے متعلق سوال اٹھایا تھا۔ اس کے بعد ہراساں کیے جانے اور دباؤ کے باعث افسردہ ہو کر انہوں نے سلفاس کھا لی اور علاج کے دوران لدھیانہ کے ڈی ایم سی اسپتال میں ان کی موت ہو گئی۔ سلفاس نگلنے کے بعد گلزار سنگھ نے ویڈیو میں الزام عائد کیا تھا کہ اس کے گاؤں میں ریاستی وزیر ہرپال چیما آئے تو انہوں نے وزیر سے کھلے عام منشیات کی فروخت پر روک لگانے سے متعلق سوال کیا۔ اس کے بعد اس کے گھر آ کر گاؤں کے پنچ اور سرپنچ نے معافی مانگنے کا دباؤ بنایا، جس سے پریشان ہو کر اس نے زہر کھا لیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔