قومی خبریں

’بنگال میں بانگلہ تو مہاراشٹر میں مراٹھی سے دقت کیوں؟‘ لسانی تنازعہ پر سنجے راؤت کا تبصرہ

راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت کا کہنا ہے کہ ’’اگر آٹو اور ٹیکسی چلانے والے مراٹھی زبان سمجھیں گے تو انہیں مقامی لوگوں سے بات چیت کرنے اور کام کرنے میں آسانی ہوگی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سنجے راؤت / آئی اے این ایس</p></div>

سنجے راؤت / آئی اے این ایس

 
IANS

مہاراشٹر میں آٹو اور ٹیکسی چلانے والوں کے لیے مراٹھی زبان کو لازمی قرار دیے جانے کے معاملے پر سیاسی بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ اب اس معاملے میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول کسی ایک ریاست کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک میں مقامی زبان کے احترام کے لیے ہونا چاہیے۔ سنجے راؤت کے مطابق جیسے مغربی بنگال میں بانگلہ، گجرات میں گجراتی، کرناٹک میں کنڑ اور پنجاب میں پنجابی زبان ضروری ہے تو مہاراشٹر میں مراٹھی زبان کو لازمی قرار دیے جانے سے دقت کیوں؟

Published: undefined

شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ اگر مہاراشٹر میں مقامی زبان کو ضروری بنایا جا رہا ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کچھ لوگ ووٹ بینک کی سیاست کے باعث مراٹھی زبان کی مخالفت کر رہے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔ سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ یہ اصول ڈرائیوروں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے اپنے فائدے کے لیے ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر آٹو اور ٹیکسی چلانے مراٹھی زبان سمجھیں گے تو انہیں مقامی لوگوں سے بات چیت کرنے اور کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ یہ لسانی تنازعہ تب شروع ہوا جب 14 اپریل کو مہاراشٹر میں پبلک ٹرانسپورٹ خدمات کے معیار اور مسافروں کی سہولیات کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ نائک نے 27 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ یکم مئی، ’مہاراشٹر دیوس‘ سے تمام لائسنس یافتہ رکشہ اور ٹیکسی چلانے والوں کے لیے مراٹھی زبان کا جاننا ضروری ہوگا۔

Published: undefined

وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ نائک کے مطابق موٹر ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے 59 علاقائی اور ذیلی علاقائی دفاتر کے ذریعہ لائسنس کے معائنے کی ایک مہم چلائی جائے گی۔ اس مہم کے دوران اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ متعلقہ ڈرائیور مراٹھی زبان پڑھ اور لکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ڈرائیور مراٹھی نہیں جانتے، ان کے لائسنس رد کر دیے جائیں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined