
گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
ملک میں قرضداروں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اس کی جانکاری مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں بھی دی گئی تھی۔ اس معاملہ میں کانگریس نے ایک گرافکس کے ذریعہ مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کردہ گرافکس میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت میں قرضدار بنے لوگ۔‘‘ اس کے ساتھ گرافکس میں دکھایا گیا ہے کہ 18-2017 میں جہاں 12.8 لوگ قرض میں ڈوبے ہوئے تھے، وہیں 25-2024 میں قرضداروں کی تعداد بڑھ کر 28.3 ہو گئی۔ یعنی 7 سالوں میں ہی ملک میں قرضداروں کی تعداد دوگنی سے زیادہ بڑھ گئی۔ اس پوسٹ کے ساتھ کانگریس نے طنزیہ انداز میں یہ کیپشن بھی لگایا ہے کہ ’’مودی ہے تو ممکن ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا کے مانسون اجلاس میں وزیر مملکت پنکج چودھری نے ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ اس کے مطابق قرضدار ہندوستانیوں کی تعداد 18-2017 میں جو 12.8 کروڑ تھی، وہ 25-2024 میں بڑھ کر 28.3 کروڑ ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی 30 جون 2026 کو جاری آر بی آئی کی فائنانشیل اسٹیبلٹی رپورٹ (ایف ایس آر) کے مطابق ہندوستان کے گھریلو سیکٹر کا قرض لگاتار بڑھ رہا ہے۔ اب یہ جی ڈی پی کا 45.5 فیصد ہو گیا ہے۔ اس میں خاص طور سے غیر رہائشی خوردہ قرضوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اب یہ مجموعی گھریلو قرض کا 58.4 فیصد ہیں، جو رہائش، زراعت و کمرشیل قرضوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
آر بی آئی کے مطابق کریڈٹ انفارمیشن کمپنی ’ٹرانس یونین سبل‘ کو کریڈٹ اداروں کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق مارچ 2018 میں 12.8 کروڑ قرض لینے والوں پر مجموعی 4361013 کروڑ روپے کا بقایہ قرض تھا، جس میں فی مقروض اوسط قرض 341478 روپے تھا۔ یہ مارچ 2025 میں 28.3 کروڑ قرض لینے والوں پر بڑھ کر 13509017 کروڑ روپے ہو گیا، جس میں فی مقروض اوسط قرض بڑھ کر 477583 روپے ہو گیا۔ مجموعی طور پر اس دوران قرض لینے والوں کی تعداد اور ان کا اوسط قرض، دونوں میں ہی اضافہ ہوا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔