قومی خبریں

’مسلمان رکشہ والا اگر 5 روپے مانگے تو 4 روپے دو، اسے خوب پریشان کرو‘، ہیمنت بسوا سرما نے دیا متنازعہ بیان، کانگریس ناراض

کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’یہ گھٹیا بیان آسام کے وزیر اعلیٰ اور نریندر مودی کے لاڈلے ہیمنت بسوا سرما کا ہے۔ ہیمنت بسوا سرما آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، ملک میں نفرت کی بیج بو رہے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ہیمنت بسوا سرما، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

ہیمنت بسوا سرما، تصویر آئی اے این ایس

 

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ایک بار پھر مسلمانوں کے تعلق سے انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے۔ انھوں نے مسلم رکشہ والوں کو ’خوب پریشان‘ کرنے کا مشورہ عام لوگوں کو دیا ہے، جس پر کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے جمعرات (29 جنوری) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس کے متعلق ایک پوسٹ کی، جس میں لکھا کہ ’’آسام کے وزیر اعلیٰ آئین کا حلف لے کر آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور ملک میں نفرت کی بیج بو رہے ہیں۔‘‘ کانگریس نے ہیمنت بسوا سرما کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’کوئی مسلمان رکشہ والا اگر 5 روپے مانگے تو اسے 4 روپے دو... خوب پریشان کرو۔‘‘

Published: undefined

کانگریس نے ہیمنت بسوا سرما کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ گھٹیا بیان آسام کے وزیر اعلیٰ اور نریندر مودی کے لاڈلے ہیمنت بسوا سرما کا ہے۔ ہیمنت بسوا سرما آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، ملک میں نفرت کی بیج بو رہے ہیں۔ یہ بی جے پی-آر ایس ایس کی نفرتی سوچ ہے۔ یہ بیان نہ صرف بیہودہ ہے بلکہ بابا صاحب کے آئین اور ہماری گنگا-جمنی تہذیب پر براہ راست حملہ ہے، جس نے ہر ہندوستانی کو یکساں حق دیا ہے۔ ہیمنت بسوا سرما کے اس شرمناک عمل کے لیے نریندر مودی اور بی جے پی کو پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے منگل (27 جنوری)  کو کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے کسی بھی آسام کے شہری کو کوئی پریشانی نہیں ہو رہی ہے، بلکہ صرف ’میاں‘ (بنگلہ زبان بولنے والے مسلم) لوگوں کو ہی اس عمل سے دقت ہو رہی ہے۔ ڈِگبوئی میں ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ ’میاں‘ طبقہ کے لوگوں کو ریاست میں ووٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

Published: undefined

ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ’’ہاں، ہم میاں طبقہ کا ووٹ چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں ہمارے ملک میں نہیں، بلکہ بنگلہ دیش میں ووٹ دینا چاہیے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتظام کر رہے ہیں کہ وہ آسام میں ووٹ نہ دے سکیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ ’’اگر میاں طبقہ کو اس تعلق سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو ہمیں کیوں فکر مند ہونا چاہیے؟‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined