قومی خبریں

’مغربی بنگال فتح کرنے کے بعد دہلی پر قبضہ کروں گی‘، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا اظہارِ عزم

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’بی جے پی کے لیے کام کرنے والے سبھی لوگوں کے نام فہرست بند ہیں۔ یاد رکھیے، آپ ہمیں ہرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>

وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی / آئی اے این ایس

 
Faiyaz Ahmad

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی بنگال میں پہلے مرحلہ کے تحت 152 سیٹوں پر 23 اپریل کو ہوئی ووٹنگ بی جے پی کی فتح کا اشارہ دے رہی ہیں۔ انھوں نے یہاں تک دعویٰ کر دیا ہے کہ 152 سے 110 سیٹوں پر بی جے پی فتحیاب ہوگی۔ دوسری طرف مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میری پیدائش بنگال میں ہوئی ہے اور میں بنگال میں ہی مروں گی۔ بنگال فتح کرنے کے بعد میں دہلی پر قبضہ کر لوں گی۔‘‘

Published: undefined

ممتا بنرجی نے بی جے پی کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے لیے کام کرنے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے لیے کام کرنے والے سبھی لوگوں کے نام فہرست بند ہیں۔ آپ نے بی جے پی بیک گراؤنڈ کی بنیاد پر لوگوں کو لایا ہے اور اسی کے مطابق افسران کی تقرری بھی کی ہے۔ یاد رکھیے، آپ ہمیں ہرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ہم ناانصافی کے خلاف لڑتے ہیں، ہم اپنے حقوق کے لیے لڑتے ہیں۔ میری پیدائش بنگال میں ہوئی ہے اور میں بنگال میں ہی مروں گی۔ بنگال جیتنے کے بعد میں دہلی پر قبضہ کر لوں گی۔ مجھے اقتدار نہیں چاہیے، مجھے دہلی میں بی جے پی کی تباہی چاہیے۔ بی جے پی نہ صرف بنگال سے مٹ جائے گی، بلکہ اسے دہلی سے بھی ہٹانا ہوگا۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے سرکردہ لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز کولکاتا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ اس دوران انھوں نے بنگال انتخاب کے لیے پہلے مرحلہ میں ہوئی ریکارڈ ووٹنگ کے لیے ریاستی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ بنگال کی عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ کیا ہے، جو خوش آئند ہے۔ امت شاہ کا کہنا ہے کہ ’’کل کی ووٹنگ میں بنگال کی عوامی نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا، جس کے لیے میں ان کا بہت بہت شکرگزار ہوں۔ اس بار ریاست میں انتخاب بے حد پرامن طریقے سے ہوا ہے، جو بذات خود ایک بڑی حصولیابی ہے۔‘‘

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined