
عام آدمی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا راگھو چڈھا نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جس سے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں جان بوجھ کر خاموش کرایا جا رہا ہے اور عوامی مسائل کو اٹھانے سے روکا جا رہا ہے۔
Published: undefined
راگھو چڈھا کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں انہیں راجیہ سبھا میں پارٹی کے نائب قائد کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جسے سیاسی مبصرین ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، "مجھے خاموش کرایا گیا ہے، لیکن میں ہارا نہیں ہوں"، اور اس بات پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
Published: undefined
انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہمیشہ پارلیمنٹ میں عام آدمی کے مسائل کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈوں پر مہنگے کھانے، آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز جیسے سوِگی اور زوماٹو کے ڈیلیوری کارکنوں کے مسائل، بینکنگ نظام میں درپیش مشکلات اور ٹول پلازہ پر عوام کو ہونے والی پریشانیوں جیسے معاملات کو انہوں نے بار بار اٹھایا۔
چڈھا کے مطابق اب پارٹی کے اندر سے ہی انہیں ایسے مسائل اٹھانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پارلیمنٹ میں انہیں بولنے کے مواقع محدود کیے جا رہے ہیں اور پارٹی کی جانب سے ہدایات دی گئی ہیں کہ انہیں سوال اٹھانے سے روکا جائے۔
Published: undefined
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ایسی جماعت، جو خود کو عام آدمی کی آواز کہتی ہے، وہی عوامی مسائل کو دبانے کی کوشش کرے۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی گلیاروں میں ہلچل بڑھ گئی ہے اور عام آدمی پارٹی کے اندر ممکنہ اختلافات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ پارٹی کے داخلی نظم و ضبط اور قیادت کے فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
ابھی تک پارٹی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم راگھو چڈھا کے الزامات نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پارٹی اس صورتحال کو کیسے سنبھالتی ہے اور آیا یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے یا نہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined