قومی خبریں

’اگر ہماری ٹیکنالوجی کو کنٹرول نہیں کیا گیا تو انسانیت خطرے میں آ جائے گی‘، اے آئی کمپنیوں کی اقوام متحدہ سے اپیل

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں اے آئی کمپنیوں کے سربراہان نے کہا کہ اگر اس تکنیک کی ترقی اور استعمال کے لیے مضبوط سیکورٹی قواعد نہیں بنائے گئے تو مستقبل میں اسے قابو کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال عہد حاضر میں خوب ہو رہا ہے، لیکن کیا آپ نے سوچا ہے کہ یہ تکنیک ہمارے لیے بھی خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اے آئی تعلیم، علاج، کاروبار اور ریسرچ سے لے کر جنگ تک میں اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ لیکن اب اے آئی کی دنیا سے ہی ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں، جو حکومتوں اور دنیا کے لیڈران کو خبردار کر رہی ہیں۔ حال ہی میں اے آئی کمپنیوں کے سربراہان نے اس کے بغیر قواعد کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں اے آئی کمپنیوں کے سربراہان نے کہا کہ اگر اس تکنیک کی ترقی اور استعمال کے لیے مضبوط سیکورٹی قواعد نہیں بنائے گئے تو مستقبل میں اسے قابو کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس میٹنگ میں ’اوپن اے آئی‘ کے سی ای او سیم آلٹمین اور ’اینتھروپک‘ کے سی ای او ڈاریو آموڈئی سمیت ’ٹیک انڈسٹری‘ کے لیڈران نے اے آئی سے متعلق تشویش کا اظہار کیا۔ ڈاریو آموڈئی نے کہا کہ اگر اے آئی کا صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا تو میرا ماننا ہے کہ یہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

سیم آلٹمین نے بھی خبردار کیا کہ انسان اے آئی کی وجہ سے مستقبل پر اپنا قابو کھو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ممالک کو مل کر ایسا سیکورٹی نظام تیار کرنا چاہئے، جس سے اے آئی ضرورت سے زیادہ طاقتور ہونے پر بھی انسانوں کے قابو میں رہے۔ اے آئی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ممالک کے لیڈران کا سب سے بڑا سوال اب یہی ہے کہ زندگی اور موت سے متعلق فیصلے آخر کون کرے گا، انسان یا مشین؟ اقوام متحدہ کی میٹنگ میں اس مسئلے پر سنگین بحث ہوئی۔ اے آئی ماہرین نے یہ بھی کہا کہ دنیا کو ایسے اصول و ضوابط بنانے چاہئیں، جس سے یہ محفوظ ہو سکے۔ اے آئی کا استعمال ماحولیاتی ہتھیار بنانے، سائبر حملوں یا دیگر خطرناک سرگرمیوں کے لیے نہ ہو۔ ساتھ ہی اے آئی ماڈلوں کی طاقت اور خطرات کی جانچ کے لیے بین الاقوامی معیار بنانے کی ضرورت بتائی گئی۔ زیادہ تشویش اے آئی کے فوجی استعمال کے حوالے سے ہے۔ اگر کسی ہتھیار یا فوجی نظام میں اے آئی کو بہت زیادہ آزادی دی جاتی ہے اور وہ غلط فیصلہ کرتا ہے، تو اس کے نتائج بے حد سنگین ہو سکتے ہیں۔

حالانکہ گفتگو صرف خطرات پر نہیں کی گئی ہے۔ اے آئی کے ذریعہ انسانوں کو ہو رہے فائدے بھی سامنے رکھے گئے۔ بہتر طبی خدمات، ریسرچ، تعلیم اور لوگوں کو زیادہ آسانی مہیا فراہم کرانے میں آئی کا اہم کردار ہو سکتا ہے۔ اے آئی کا استعمال جنگ اور بحران کے وقت جانکاری جمع کرنے، خطرات کی شناخت کرنے اور راحت رسانی کو بہتر بنانے میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا میں 21 ہیلتھ کلینک پر سائبر حملے کے نتیجے میں مریضوں کی معلومات چوری ہو گئیں، جن میں ان کے نام اور پتے، میڈیکیئر نمبرز اور میڈیکل رپورٹس شامل ہیں۔ اب کمپنی انہیں آن لائن پبلک کرنے یا فروخت کرنے سے روکنے کے لیے قانونی کوششیں کر رہی ہے۔ کمپنی کے آسٹریلیا میں 60 سے زیادہ طبی مراکز ہیں اور 50 لاکھ سے زیادہ لوگ اس کی خدمات سے منسلک ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔