
ویڈیو گریب
مغربی بنگال اسمبلی میں بدھ (22 جولائی) کو اس وقت زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا جب ایوان کے اسپیکر کے حکم کے بعد مارشلوں نے ٹی ایم سی رکن اسمبلی کنال گھوش کو گھسیٹ کر اسمبلی سے باہر نکال دیا۔ اس واقعہ کے دوران ایوان میں کافی دیر تک افراتفری اور ہنگامے جیسا ماحول بنا رہا۔ یہ واقعہ تب سامنے آیا جب اسمبلی میں ٹی ایم سی رکن اسمبلی کنال گھوش اور ٹی ایم سی کے باغی رکن اسمبلی اخرالزماں کے درمیان تیکھی نوک جھونک ہو گئی۔ دراصل اخرالزماں اسمبلی میں اپنی بات رکھنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے اپنی بات رکھنی شروع کی ویسے ہی کنال گھوش ایوان کے ویل میں پہنچ گئے اور اخرالزماں کی تقریر میں رکاوٹ ڈالنے لگے۔ اس کے بعد دونوں اراکین اسمبلی کے درمیان تنازعہ بڑھ گیا۔
اس دوران ایوان میں بی جے پی کے اراکین اسمبلی فوری طور پر کنال گھوش کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ان کے درمیان تیکھی بحث ہونے لگی۔ ایوان میں بڑھتے ہوئے تنازعہ اور ہنگامے کو دیکھتے ہوئے بنگال اسمبلی کے اسپیکر رتھیندر بوس نے ٹی ایم سی کے رکن اسمبلی کنال گھوش کو اپنی نشست پر جانے کی ہدایت دی۔ تاہم اسپیکر کی ہدایت کے بعد بھی ایوان میں صورتحال قابو میں نہیں آئی، تب اسمبلی اسپیکر نے ٹی ایم سی رکن اسمبلی کنال گھوش کو ایوان کی ایک دن کی کارروائی سے معطل کر دیا اور مارشلوں کو انہیں ایوان سے باہر نکالنے کا حکم دے دیا۔
اسمبلی اسپیکر سے حکم ملنے کے بعد تعینات مارشلوں نے ٹی ایم سی رکن اسمبلی کنال گھوش کو ایوان سے گھسیٹ کر باہر نکال دیا۔ اس دوران کنال گھوش نے شدید احتجاج درج کرایا۔ ایوان سے باہر نکالے جاتے وقت کنال گھوش نے الزام عائد کیا کہ کالی گھاٹ ٹی ایم سی کو اسمبلی میں بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، جبکہ رتبرت کی قیادت والی ٹی ایم سی کے رکن اسمبلی اخرالزماں کو ایوان میں بولنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کنال گھوش کے اس سخت بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔