قومی خبریں

حجاب سے پابندی ہٹانے کا معاملہ: ’کانگریس حکومت نے اقلیتوں کو خوش کرنے کے لیے فیصلہ لیا‘ یدی یورپا کا ردعمل

بی جے پی لیڈڑ سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا نے ہفتہ کو کرناٹک حکومت کے حجاب پر سے پابندی ہٹانے کے فیصلے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اقلیتوں کو خوش کرنے کے لیے کیے گئے فیصلے کی مذمت کرتا ہوں‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

بنگلورو: بی جے پی لیڈڑ سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا نے ہفتہ کو کرناٹک حکومت کے حجاب پر سے پابندی ہٹانے کے فیصلے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اقلیتوں کو خوش کرنے کے لیے کیے گئے فیصلے کی مذمت کرتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا، ’’اس سے عزت نہیں ملے گی۔ چونکہ وہ اقتدار میں ہیں، وہ سیاسی سرکس بنانا چاہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں یہ کب تک چلے گا۔ اس معاملے کو لے کر بی جے پی کی طرف سے کوئی مخالفت نہیں ہوگی۔ عوام آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس حکومت کو سبق سکھائیں گے۔‘‘

Published: undefined

یدی یورپا نے کہا، ’’اسکولی بچوں کے لیے یکساں پالیسی کی ضرورت ہے، سی ایم سدارامیا نے اس کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ انہیں جاگنے دیں اور اپنا فیصلہ واپس لینے دیں، کانگریس حکومت ضدی ہے۔ کس مسلم لیڈر نے ان سے حجاب پر پابندی واپس لینے کو کہا تھا؟’’

Published: undefined

وہیں، وجے پورہ سے بی جے پی ایم ایل اے باسنا گوڈا پاٹل یتنال نے کہا، ’’وزیر اعلیٰ سدرامیا دوسرے ٹیپو سلطان بن رہے ہیں۔ حجاب پر پابندی کے حکم کو واپس لینا مناسب نہیں ہے۔ حجاب پر پابندی بی جے پی نے نہیں کی ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر نے طلبا میں مساوات کو یقینی بنانے کے لیے یکساں اصول نافذ کیا تھا۔ ہندو طلبا اب زعفرانی شال پہنیں گے اور تلک لگائیں گے، اس سے دراڑ پیدا ہوگی۔‘‘

Published: undefined

خیال رہے کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اسمبلی انتخاب سے قبل کیے گئے ایک اور وعدے کو گزشتہ روز پورا کرتے ہوئے ریاست کے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے جمعہ کے روز واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہم حجاب کے فیصلے کو واپس لیں گے۔ ریاست میں اب حجاب پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ خواتین حجاب پہن کر کہیں بھی جا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں افسران کو (حجاب پر پابندی سے متعلق) حکم واپس لینے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined