
ممبئی (پریس ریلیز): بارڈر سیکوریٹی فورسیز (بی ایس ایف) سے تعلق رکھنے والے مہاراشٹر کے لاتور شہر کے ایک مسلم نوجوانون کو گذشتہ سال پڑوسی ملک پاکستان کے لیئے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جس کی ضمانت پر رہائی کی درخواست جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے چندی گڑ ھ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی جسے بدھ کے روز ہائی کورٹ نے سماعت کے لیئے منظور کرتے ہوئے نچلی عدالت کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔
Published: undefined
اس ضمن میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ ملزم ریاض الدین شیخ جو ہندوستانی فوج کے شعبہ بی ایس ایف میں اپنی خدمات پیش کررہا تھا کو نومبر 2018 میں پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کرکے اسے جیل میں قید کیا گیا اور اس کے بعد اسے ملازمت سے فوراً معطل کردیا گیا تھا کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر بدھ کے روز چندی گڑھ ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جسٹس منوج بجاج نے جمعیۃ علماء کے وکلاء نریندر پال بھاردواج اور مجاہد احمدکی جانب سے کی گئی بحث کے بعد ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے منظور کرتے ہوئے نچلی عدالت کا ریکارڈ طلب کیا ہے اور استغاثہ کو حکم دیا کہ 28 نومبر تک عدالت میں نچلی عدالت کا ریکارڈ معہ مقدمہ کااسٹیٹس پیش کیا جائے۔
Published: undefined
گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ملزم کے اہل خانہ نے اس کی ضمانت پر رہائی کی بہت کوشش کی لیکن انہیں کامیانی نہیں ملی جس کے بعد مقامی جمعیۃ علماء کے توسط سے ملزم کے اہل خانہ نے ریاستی جمعیۃ علماء سے رابطہ قائم کرکے ان سے قانونی امداد طلب کی اور کہا کہ ریاض الدین بے قصور ہے اور اس نے پاکستان کے لیئے جاسوسی نہیں کی ہے اور وہ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ ایک ایماندار فوجی ہے۔
Published: undefined
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم ریاض الدین کی فائل کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم نے ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ملز م پر جو الزام عائد کیا گیا ہے وہ بی ایس ایف کورٹ یعنی کے فوجی عدالت میں ہی چل سکتا ہے لیکن فی الحال ملزم کا مقدمہ فیروز پور کی سیشن عدالت میں چل رہا ہے جو غیر قانونی ہے۔
Published: undefined
گلزار اعظمی نے کہا کہ فیروز پور سیشن عدالت نے ملزم کی ضمانت عرضداشت خارج کردی ہے جس کے خلاف چندی گڑھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا جس پر بدھ کے روز سماعت عمل میں آئی۔ دوران بحث عدالت کو بتایا گیا کہ اس معاملے کی تفتیش قانون کے مطابق نہیں کی گئی ہے نیز مجسٹریٹ عدالت نے بھی فیصلہ دے دیا ہیکہ ملزم کامقدمہ فوجیوں کی خصوصی عدالت میں چلنا چاہئے اس کے باوجود ملزم کا مقدمہ سیشن عدالت میں زیر سماعت ہے اورسیشن عدالت نے اس کی ضمانت عرضداشت بھی خارج کردی ہے۔
Published: undefined
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ آفیشیل سیکریسی ایکٹ کے اطلاق کے لیئے ضروری اجازت نامہ (سینکشن) کی غیر موجودگی میں ملزم کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی لیکن ٹرائل کورٹ نے اس اہم بنیاد کو نظر انداز کرتے ہوئے چارج فریم کردیا جو غیر قانونی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined