
راجستھان ہائی کورٹ / آئی اے این ایس
راجستھان ہائی کورٹ نے کھاپ اور ذات پنچائتوں کے جاری کئے جانے والے فرمانوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے فرمان نہ صرف لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ سماجی بائیکاٹ جیسے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک ٹھوس اور واضح پالیسی اختیار کرے۔ ہارئی کورٹ کے جج جسٹس فرزند علی کی سنگل بنچ نے 11 درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ ان درخواستوں میں کئی اضلاع میں سماجی بائیکاٹ اور جبر کے معاملات اٹھائے گئے تھے جن میں سروہی، باڑمیر، ناگور، بلوترا، جالور اور جودھپور شامل ہیں۔
Published: undefined
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ شکایات کے باوجود انتظامیہ اکثر ایسے معاملات میں ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کھاپ اور ذات پنچایتیں بغیر کسی قانونی اختیار کے متوازی انصاف کا نظام چلا رہی ہیں۔ یہ گروپ ’حقہ پانی بند‘ جیسے فرمان جاری کرکے لوگوں اور ان کے خاندانوں کو سماج سے الگ کردیتے ہیں جو شخصی وقار اور آزادی کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔
Published: undefined
عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کئی معاملات میں لوگوں کو اپنی پسند کی شادی کرنے یا روایات کے خلاف بات کرنے پر سزا دی گئی۔ کچھ خاندانوں پر بھاری جرمانہ لگایا گیا اور انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ کردیا گیا۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک اسڈینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس اوپی) کے ساتھ پالیسی بنائے تاکہ ایسے معاملات سے مؤثر طریقے سے نپٹا جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی ۔ عدالت نے کہا کہ ان رہنما خطوط کو تمام اضلاع میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور لوگوں کو اس سے آگاہ کیا جائے۔
Published: undefined
عدالت نے یہ بھی کہا کہ فی الحال راجستھان میں سماجی بائیکاٹ کو جرم قرار دینے کے لیے ابھی کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کو مہاراشٹرا کی طرز پر قانون بنانے پر غور کرنا چاہیے، جس سے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہو سکے۔ اس کے علاوہ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ سماجی بائیکاٹ کے تمام معاملات کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سطح کے افسر کی تقرری کی جائے اور ہر معاملے کی جانچ 90 دنوں کے اندر مکمل کی جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined