
دہلی پولیس (فائل) / آئی اے این ایس
قتل کیس کے ایک معاملے میں سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کے کام کاج پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے پایا کہ بوانہ تھانے کے اس وقت کے ایس ایچ او کی جانب سے عدالت میں نامکمل اور گمراہ کن اسٹیٹس رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ اس معاملے سے متعلق اہم شواہد کو شامل نہیں کیاگیا تھا۔ جسٹس گریش کٹھپالیہ نے اسے انتہائی سنگین اور چونکا دینے والی صورتحال قرار دیا اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی۔
Published: undefined
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی شروعات ایک بلائنڈ ایف آئی آر سے ہوئی تھی۔ یعنی ابتدائی رپورٹ میں کسی ملزم کا نام واضح طور پر نہیں تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کیس عدالت میں آیا تو نہ تو تفتیشی افسر موجود تھے اور نہ ہی ایس ایچ او۔ اس سے استغاثہ فریق کو درست طریقے سے اپنا مؤقف پیش کرنے میں مشکل ہوئی۔
Published: undefined
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ تفتیشی افسر کی طرف سے داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ میں آخری منظرکے اہم گواہ کی مکمل گواہی شامل نہیں کی گئی تھی، جو معاملے کے لیے انتہائی ضروری تھی۔ ریکارڈ کے مطابق اہم گواہ کی جزوی گواہی 8 اگست 2024 کو ہوئی تھی۔ اس دن تفتیشی افسرعدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے کے لیے لیپ ٹاپ ہی نہیں لائے جس سے گواہی نامکمل رہ گئی۔ بعد ازاں 17 فروری 2025 کو جب عدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی گئی تو گواہ ملزم کی شناخت نہیں کرسکیں۔
Published: undefined
اسٹیٹس رپورٹ میں یہ اہم معلومات بھی چھپائی گئی تھیں۔ جب وکیل دفاع نے اسے عدالت میں پیش کیا تو استغاثہ فریق بھی اس سے انکار نہیں لرپایا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم تقریباً 4 سال 8 ماہ سے جیل میں ہے۔ کیس کے حالات اور تفتیش میں سامنے آنے والی کوتاہیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ملزم کو 10ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ایک ضمانتی پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ ڈی سی پی کو ہدایت دی کہ معاملے میں لاپرواہی برتنے والے پولیس افسران کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined