
ویڈیو گریب
مغربی بنگال میں انتخابی تشہیر کے لیے اتوار (19 اپریل) کو وزیر اعظم نریندر مودی جھارگرام پہنچے تھے۔ اس دوران وہ اچانک سڑک کنارے واقع ایک ’جھال موڑی‘ کی دکان پر رکے۔ وزیر اعظم مودی کا قافلہ رکتے ہی وہاں لوگوں کی بھاری بھیڑ اکٹھی ہو گئی۔ اب اس معاملہ پر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ٹی ایم سی نے الزام عائد کیا ہے وزیر اعظم کے اچانک ’جھال موڑی‘ بریک کی وجہ سے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور ان کی اہلیہ کو اتوار کے روز جھارگرام میں ہیلی کاپٹر اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
Published: undefined
ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور رکن اسمبلی کلپنا سورین کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا اور آخرکار وزیر اعظم مودی کے طویل ناشتہ بریک اور تصویر کھنچوانے کے سبب انہیں واپس رانچی لوٹنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ وزیر اعظم کے پروگرام کے باعث وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور کلپنا سورین کو جھارگرام میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی کے مطابق دونوں لیڈران کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا اور بالآخر انہیں اپنا پروگرام منسوخ کر کے رانچی لوٹنا پڑا۔
Published: undefined
’ایکس‘ پوسٹ میں ترنمول کانگریس نے لکھا کہ ’’نریندر مودی کی قبائل مخالف ذہنیت سب کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہے، کیونکہ وزیر اعظم نے جھال موڑی کھانے کے لیے جھارگرام میں اپنا قیام بڑھا دیا۔ اس لیے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ اور ان کی اہلیہ کلپنا سورین کو نریندر مودی کی موجودگی میں جھارگرام میں ہیلی کاپٹر اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘ پارٹی نے آگے کہا کہ ’’یہ ہے قبائلی لیڈران کے تئیں نریند مودی کا احترام۔ یہ ہے ان منتخب نمائندوں کے لیے ان کی عزت جو ان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتے۔ وہ قبائلی ووٹ کو لبھانے کے لیے جھارگرام آئے تھے، وہ انہی لوگوں کی توہین کر کے چلے گئے جن کے ساتھ کھڑے ہونے کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی ریلیوں کے درمیان جھارگرام میں سڑک کنارے ایک دکان پر رک کر جھال موڑی کھایا تھا۔ وزیر اعظم نے اس کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی تھی، جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا تھا ’’جھارگرام میں جھال موڑی بریک۔‘‘ ویڈیو میں وزیر اعظم جھال موڑی لیتے نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران وہاں بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے ’نریندر مودی زندہ بعد‘ جیسے نعرے لگائے۔ قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کے لیے 2 مرحلوں 23 اور 29 اپریل کو ووٹنگ ہوگی اور نتائج 4 مئی کو آئیں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined