قومی خبریں

دہلی میں بارش، سڑکیں پانی سے لبالب، کئی مقامات پر ٹریفک جام

دہلی کے آئی ٹی او پر بارش کے سبب لمبا جام لگ گیا اور دور دور تک گاڑیوں کی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ وہیں محکمہ موسمیات نے اگلے دو دن دہلی اور ملحقہ علاقوں میں بھاری بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

علامتی تصویر، UNI
علامتی تصویر، UNI 

دہلی اور این سی آر میں موسم نے اچانک کروٹ لے لی ہے اور رات سے لگاتار بارش ہو رہی ہے۔ اس سے لوگوں کو امس والی گرمی سے تو راحت مل گئی لیکن دہلی کی سڑکیں پانی سے بھر چکی ہیں۔ کئی مقامات میں پانی بھرنے کی وجہ سے ٹریفک جام کی صورت حال پیدا ہوگئی اور لوگوں کو لمبے جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دہلی میں رات سے شروع ہونے والا بارش کا سلسلہ صبح کے بعد بھی جاری رہا۔

Published: undefined

کئی مقامات پر بارش کے بعد پانی بھر گیا اور ٹریفک کی رفتار ماند پڑ گئی ہے۔ دریں اثنا آئی ٹی او پر لمبا جام لگ گیا اور دور دور تک گاڑیوں کی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ وہیں محکمہ موسمیات نے اگلے دو دن دہلی اور ملحقہ علاقوں میں بھاری بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اگلے کچھ گھنٹوں کے دوران دہلی، نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، روہتک، گڑگاؤں، غازی آباد، فرید آباد، پلول، پانی پت اور کرنال کے بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانے درجہ کی بارش ہو سکتی ہے۔ ان میں سے کئی علاقوں میں اب بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

Published: undefined

محکمہ موسمیات کی طرف سے بھاری بارش کے ہونے کی پیش گوئی ہے، نچلے علاقوں میں پانی بھر سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے لوگوں سے باہر نکلنے سے پہلے اپنے روٹ کے حوالہ سے اپڈیٹ پر نظر ڈالنے کی صلاح دی ہے تاکہ لوگ بھاری جام سے بچ سکیں۔

Published: undefined

محکمہ موسمیات کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ قومی راجدھانی میں اگست میں معمول سے 72 فیصد کم بارش ہوئی ہے، جو 10 سالوں میں سب سے کم ہے۔ گزشتہ سال اگست کے پہلے 12 دنوں میں راجدھانی میں 37.1 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ شہر میں اسی عرصہ میں 2018 میں 56 ملی میٹر بارش، 2017 میں 64 ملی میٹر اور 2016 میں 41 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ اسی عرصہ میں 2015 میں 110.6 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ 2014 میں 120.5 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ اس سال جولائی میں دہلی میں 236.9 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول کی 210.6 ملی میٹر بارش سے 12 فیصد زیادہ تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined