
سپریم کورٹ نے اترپردیش کے ہاتھرس کے مبینہ اجتماعی ریزی اور قتل معاملے میں ریاستی حکومت کو کچھ نقائط پر حلف نامہ دائر کرنے کی منگل کو ہدایت دی اور سماعت ایک ہفتے کےلئے ٹال دی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اس معاملہ کو خوفناک قرار دیا۔
چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے کی صدارت والی بینچ نے ریاستی حکومت سے حلف نامہ دے کر یہ بتانے کو کہا کہ وہ معاملے کے گواہوں کی حفاظت کے لئے کیا قدم اٹھارہی ہے اور کیا متاثرہ کے کنبے نے کوئی وکیل منتخب کیا ہے؟ جسٹس بوبڑے نے کہا کہ وہ یقینی بنائیں گے کہ ہاتھرس معاملے کی جانچ صحیح طریقے سے چلے۔
اترپردیش حکومت نے ہاتھرس معاملے کی سماعت سے پہلے ہی بغیر نوٹس کے اپنی طرف سے حلف نامہ دائر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ہاتھرس معاملے کے بہانے ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کے مقصد سے سوشل میڈیا، ٹی وی اور پرنٹ میڈیا پر جارحانہ مہم چلائی گئی۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ کچھ میڈیا اہلکار اور سیاسی پارٹیوں کے لوگوں نے ہاتھرس معاملے کے بہانے اپنے ذات مفادات کےلئے ذات اور سماجی بھائی چارے کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔
یوگی حکومت نے ہاتھرس کیس میں حلف نامہ دائر کرکے سپریم کورٹ کو سی بی آئی جانچ کی ہدایت دینے کامطالبہ کیا۔ اس نے معاملے میں اب تک ہوئی جانچ کی تفصیل عدالت کو سونپی اور دعوی کیا کہ کچھ ذاتی مفادات منصفانہ انصاف کے راستے میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔ سپریم کورٹ سے بی آئی جانچ کی نگرانی کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
ہاتھرس گینگ ریپ معاملہ میں اتر پردیش حکومت نئے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کیا ہے۔ اس حلف نامہ میں یوپی حکومت نے اپوزیشن پر ذات کی بنیاد پر فداد بھڑکانے کی سازش کا الزام عائد کیا ہے۔ یوپی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کنبہ کی منظوری کے بعد ہی تشدد سے بچنے کے لئے آدھی رام میں متاثرہ کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔
یوپی حکومت نے کہا کہ ایودھیا سے متعلق بابری مسجد انہدام کیس کی حساس نوعت اور کورونا وائرس کے پیش نظر کنبہ کی منظوری کے بعد متاثرہ کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔
اتر پردیش حکومت نے آج سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کیا ہے، جس میں حکومت نے کہا ہے کہ عدالت کو ہاتھرس میں متاثرہ کے ساتھ عصمت دری اور قتل کی سی بی آئی جانچ کی ہدایت دینی چاہئے۔ یوپی حکومت نے کہا کہ وہ معاملہ کی غیر جانبادارانہ جانچ کرا سکتی ہے لیکن جانچ میں رخنہ اندازی کے مقصد سے ہنگامہ کرایا جا رہا ہے۔
یوگی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ہاتھرس کے بہانے یوپی میں فساد بھڑکانے کی ساز کی جا رہی ہے۔ یو پی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملہ میں دہلی سے ہاتھرس آ رہے چار مشتبہ افراد متھرا سے گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان کا تعلق پی ایف آئی سے ہے۔ فساد کی سازش میں بیرونی فندنگ کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
ہاتھرس گینگ ریپ اور قتل کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ چیا ہے اور آج سپریم کورٹ اس سے متعلق دو عرضیوں پر سماعت کرنے جا رہا ہے۔ ایک مفاد عاملہ کی عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کیس کی جانچ سی بی آئی سے جانچ کرائی جائے۔ عرضی میں کیس کو پو پی سے دہلی منتقل کئے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے سبکدوش جج کی نگرانی میں تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 06 Oct 2020, 10:51 AM IST