
دل کا دورہ، علامتی تصور / آئی اے این ایس
ہریانہ میں ’ہارٹ اٹیک‘ سے مرنے والے لوگوں کے متعلق حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ ہریانہ اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار میں 26-2020 کے درمیان کی معلومات فراہم کی گئی۔ ان سالوں کے درمیان 45-18 کی عمر کے تقریباً 18 ہزار لوگوں کی موت ’ہارٹ فلیئر‘ کی وجہ سے ہو گئی۔ حکومت نے ایوان میں کانگریس کے ایک رکن اسمبلی کے سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔
Published: undefined
کانگریس رکن اسمبلی نے پوچھا تھا کہ 2020 سے اب تک ہریانہ میں 45-18 سال کی عمر کے کتنے نوجوانوں کی موت دل کے دورے/ہارٹ فیلیئر سے ہوئی ہے؟ ان کی ہر سال کی ضلع وار تعداد کیا ہے؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا حکومت نے یہ معلوم کرنے کے کوئی اسٹڈی یا سروے کیا ہے کہ ان اموات کا کووڈ-19 انفیکشن یا کووڈ-19 ویکیسینیشن سے کوئی تعلق ہے؟ اگر ہاں تو اس سروے کے نتیجے کیا ہیں اور اس تعلق سے حکومت نے کیا کارروائی کی ہے؟‘‘
Published: undefined
کانگریس رکن اسمبلی کے سوال کے بعد ایوان کو بتایا گیا کہ ایسا کوئی سروے نہیں کیا گیا۔ حکومت نے کہا کہ اضلاع سے ملی اطلاع کے مطابق 2020 میں 2394، 2021 میں 3188، 2022 میں 2796، 2023 میں 2886، 2024 میں 3063، 2025 میں 3255 اور جنوری 2026 میں 391 اموات رپورٹ کی گئیں۔ یعنی ان کی مجموعی تعداد 17973 ہے۔ مختلف اضلاع کے لیے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2020 سے دسمبر 2025 تک ضلع یمنا نگر میں ہر سال ایسی اموات کی تعداد 387، 461، 375، 378، 410 اور 389 تھی۔ اس کے مقابلے میں، ضلع روہتک کے اعداد و شمار کافی کم تھے جو کہ بالترتیب 33، 41، 40، 27، 30 اور 30 رہے۔ گروگرام کے لیے یہ تعداد 113، 105، 116، 114، 93 اور 83 تھی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اموات کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود وزیر صحت نے واضح کیا کہ حکومت نے یہ معلوم کرنے کے لیے کوئی سروے نہیں کیا کہ ان اموات کا تعلق کووڈ-19 انفیکشن یا اس کے بعد چلائی گئی ویکسینیشن مہم سے تھا۔ عالمی وبا اور نوجوانوں میں دل کے امراض (کارڈیک فیلیئر) میں اضافے کے درمیان تعلق کے حوالے سے فی الحال کوئی بھی سرکاری نتیجہ یا حکومت کی جانب سے کی گئی کوئی خاص کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined