
ابھیشیک منو سنگھوی / آئی اے این ایس
الیکشن کمیشن سے متعلق ’انڈین ایکسپریس‘ کے انکشاف کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن ابھیشیک منو سنگھوی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر الیکشن کمیشن کو ’ہائی جیک‘ کرنے یعنی یرغمال بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دہلی اور ہریانہ میں ہوئے اسمبلی انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ سنگھوی نے کہا کہ سی ای سی نے ملک کو گمراہ کیا۔ آج الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے بھی آزاد نہیں ہیں، الیکشن کمیشن میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، لیکن سی ای سی نے اپنے ساتھیوں کو گمراہ کیا ہے۔
کانگریس رہنما ابھیشیک منو سنگھوی نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن میں ایک اندرونی ’بلڈوزر‘ بھی ہے۔ ظاہر ہے، ان کا اشارہ گیانیش کمار کی طرف تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ گیانیش کمار نے صرف ملک کو گمراہ ہی نہیں کیا بلکہ اپنے ساتھیوں کو گمراہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ’ہائی جیک‘ کر لیا، سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک اکثریتی ادارہ ہے ایسے میں سوال ہے کہ کیا الیکشن کمشنرز ’ڈمی‘ ہیں اور صرف ایک شخص ہی الیکشن کمیشن چلا رہا ہے۔ سی ای سی نے فارم 6 میں تبدیلی کر کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔
ابھشیک منو سنگھوی نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’1995 میں سپریم کورٹ نے صاف کر دیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک اکثریت والا ادارہ ہے۔ بہت وقت پہلے ایک قانونی سوال اٹھا تھا کہ کیا الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سب سے بالاتر ہے اور الیکشن کمشنرز برابر کا حق نہیں رکھتے؟ اس کا واضح جواب دیا گیا تھا کہ سبھی الیکشن کمشنرز برابر ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)، الیکشن کمشنرز کے اوپر نہیں ہیں، بلکہ برابر والوں میں اول ہیں۔‘‘ اس تشریح کے بعد انھوں نے میڈیا کے سامنے کہا کہ ’’ایسے میں آج کے انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے صرف ملک کے آئینی اقدار پر حملہ نہیں کیا، انھوں نے الیکشن کمیشن کر یرغمال بنا کر اپنے ساتھیوں کو بھی گمراہ کیا ہے۔‘‘
ابھیشیک منو سنگھوی کے مطابق سپریم کورٹ نے تقریباً 30 سال قبل کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے تمام الیکشن کمشنرز کو فیصلے کرنے کے عمل میں اپنی رائے دینے کا حق ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا تھا کہ ’’اگر چیف الیکشن کمشنر کو اس لحاظ سے برتر سمجھا جائے کہ ان کا فیصلہ حتمی ہوگا تو وہ دیگر الیکشن کمشنرز کو غیر مؤثر یا محض نمائشی بنا دیں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’سی ای سی گیانیش کمار جن لوگوں کو ’ڈمی‘ سمجھتے ہیں، انہوں نے 10 ماہ میں 14 مرتبہ تحریری طور پر اپنا اعتراض اور اختلاف درج کرایا ہے۔ اگست 2026 میں الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو نے فارم 6 میں کی گئی تبدیلی کو ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔ اس تبدیلی کی مخالفت الیکشن کمشنر وویک جوشی نے بھی کی تھی۔‘‘
راجیہ سبھا رکن منو سنگھوی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اس سے قبل مئی 2026 میں دونوں الیکشن کمشنرز نے اعتراض درج کرایا تھا کہ ہمارے ای آر اوز کو الیکشن کمیشن کے پورٹل تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ پھر اگست 2026 میں سکھبیر سنگھ سندھو نے لکھا کہ مغربی بنگال کے ٹریبونل کے سامنے الیکشن کمیشن کی جانب سے اپیل کرنے کی اجازت کس نے دی؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’سوال یہ ہے کہ یہ کیسا ہائی جیک ہے، یہ کیسی تاناشاہی ہے، کیا باقی الیکشن کمشنرز ڈمی ہیں؟‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔