قومی خبریں

گجرات: اب والدین کو بتائے بغیر نہیں ہو سکے گی ’لو میرج‘، شادی رجسٹریشن کے قانون ہوں گے سخت

20 فروری کو ریاستی اسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے گجرات میرج رجسٹریشن ایکٹ کے قوانین میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی۔

شادی، علامتی تصویر آئی اے این ایس
شادی، علامتی تصویر آئی اے این ایس 

گجرات حکومت نے شادی کی رجسٹریشن سے متعلق قوانین میں اہم تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے۔ 20 فروری کو ریاستی اسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے گجرات میرج رجسٹریشن ایکٹ کے قوانین میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم بین المذاہب شادیوں میں دھوکہ دہی اور شناخت چھپا کر شادی کرنے جیسے واقعات پر روک لگانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

Published: undefined

تجویز کے مطابق اب شادی کی رجسٹریشن کراتے وقت دولہا اور دلہن کو ایک حلف نامہ دینا ہوگا۔ اس میں یہ بتانا ہوگا کہ انہوں نے والدین کو شادی کے متعلق اطلاع دی ہے یا نہیں۔ درخواست میں دونوں فریق کے والدین کا نام، پتہ، آدھار نمبر اور موبائل نمبر دینا لازمی ہوگا۔ اسسٹنٹ رجسٹرار درخواست کی جانچ کے بعد 10 کام کے دنوں کے اندر والدین کو واٹس ایپ، ای میل یا دیگر ذرائع سے اطلاع بھیجے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے خاندانوں کو برقت معلومات مل سکیں گی۔

Published: undefined

نئی تجویز کے تحت میرج سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں 30 سے 40 دن تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس دوران اگر کوئی اعتراض سامنے آتا ہے تو اس کی جانچ کی جائے گی۔ تمام دستاویزات آن لائن پورٹل پر اپلوڈ کرنے ہوں گے اور اس کے لیے الگ سے پورٹل بھی بنایا جائے گا۔ گواہوں کی تصاویر اور آدھار کارڈ بھی لازمی قرار دیے جائیں گے، تاکہ کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی کو روکا جا سکے۔

Published: undefined

ہرش سنگھوی نے اسمبلی میں کہا کہ یہ فیصلہ بیٹیوں کے تحفظ اور سماجی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شناخت چھپا کر شادی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں نوجوان لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر دوسری ریاستوں میں لے جایا گیا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ یہ تجویز فی الحال 30 دنوں تک عوام کے مشوروں اور اعتراضات کے لیے کھلی رہے گی، جس کے بعد حتمی قوانین نافذ کر دیے جائیں گے۔ دوسری جانب مہاراشٹر میں بھی اس طرح کے قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ وہاں بھی کئی تنظیموں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نوجوان لڑکیوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined