قومی خبریں

گراؤنڈ رپورٹ: مظفرنگر میں تاریخ ساز ’کسان مہاپنچایت‘، سڑکوں پر پیر رکھنے کی بھی جگہ نہیں بچی!

مظفرنگر کی سڑکوں پر کسانوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ میدان میں لاکھوں لوگ موجود ہیں اور میدان کے باہر بھی اتنے ہی لوگ موجود ہیں جنہیں اندر جگہ نہیں مل سکی

مظفرنگر مہاپنچایت
مظفرنگر مہاپنچایت 

مظفرنگر: زرعی قوانین کے خلاف سنیوکت کسان مورچہ کی اپیل پر مظفرنگر کے جی آئی سی میدان پر کسانوں کی عظیم الشان کسان مہاپنچایت چل رہی ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت تقریباً 10 مہینے کے بعد اپنے آبائی ضلع میں پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک بل واپسی نہیں ہوگا وہ گھر واپس نہیں جائیں گے۔ دریں اثنا، مظفرنگر کی سڑکوں پر کسانوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ میدان میں لاکھوں لوگ موجود ہیں اور میدان کے باہر بھی اتنے ہی لوگ موجود ہیں جنہیں اندر جگہ نہیں مل سکی۔

Published: 05 Sep 2021, 2:20 PM IST

مظفرنگر شہر کی سڑکوں پر مہاپنچایت میں آنے والے لوگوں کے لئے پورا انتظام کیا گیا ہے۔ کہیں پوری کچوڑی بٹ رہی ہیں، کہیں چاول اور کڑھی چاول ہیں اور جگہ جگہ بھنڈارے کا اعلان ہو رہا ہے۔ ہر جگہ کھانے کا انتظام ہے مگر کھانے میں لوگوں کی کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ صرف میدان میں پہنچنا چاہ رہے ہیں۔ جو لوگ میدان میں ایک بار پہنچ گئے تھے وہ وہاں پر بھیڑ کو دیکھ کر واپس آ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے آنے جانے والوں سے سڑکیں پوری طرح بھر چکی ہیں۔

یوں محسوس ہو رہا ہے گویا تمام راستے مظفرنگر کے جی آئی سی میدان کی طرف جا رہے ہیں۔ ہر طرف سے کہیں ٹریکٹر، کہیں بسوں اور کہیں موٹر سائیکلوں پر بھارتیہ کسان یونین، سنیوکت کسان مورچہ کے جھنڈے لے کر جگہ جگہ سے لوگ یہاں آ رہے ہیں۔ نیشنل ہیرالڈ اور قومی آواز کی ٹیم تقریباً 4 کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد جی آئی سی میدان تک پہنچ سکی۔

Published: 05 Sep 2021, 2:20 PM IST

کسان مہاپنچایت کے لئے جی آئی سی میدان پر بڑا سا اسٹج بنایا گیا ہے، جس پر بڑی تعداد میں لیڈران موجود ہیں۔ یہاں ہر کھاپ کا ایک ذمہ دار نظر آ رہا ہے اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ انہیں ایک یا دو منٹ بولنے کی اجازت دی جائے۔ یہاں پر لاکھوں کی تعداد میں جو لوگ موجود ہیں ان میں حکومت کے خلاف بہت غصہ ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مرکزی حکومت اور یوپی کی حکومت سے تنگ آ چکے ہیں۔

Published: 05 Sep 2021, 2:20 PM IST

مہاپنچایت میں موجود جم ٖ غفیر کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ سماج کا ہر طبقہ یہاں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے پہنچ گیا ہے۔ 12 بجے کے قریب بھی میدان میں لوگوں کے پہنچنے کا سلسلہ جاری رہا اور جیسے ہی راکیش ٹکیت میدان تک پہنچے بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔

Published: 05 Sep 2021, 2:20 PM IST

مہاپنچایت میں ہر عمر لے لوگ نظر آ رہے ہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے تو بزرگ بھی اتنی ہی تعداد میں نظر آ رہے ہیں۔ حاضرین جس جوش کے ساتھ یہاں پہنچ رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں زرعی قوانین اور مرکزی حکومت کے خلاف بہت غصہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مہنگائی کا مسئلہ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔

Published: 05 Sep 2021, 2:20 PM IST

راکیش ٹکیت تقریباً 10 مہینے بعد اپنے ضلع مظفرنگر میں پہنچے ہیں۔ اس کے باوجود اسٹیج سے لگاتار اعلان کیا جا رہا ہے کہ راکیش ٹکیت اس وقت تک اپنے گھر نہیں جائیں گے جب تک زرعی قوانین کو حکومت واپس نہیں لے لیتی۔ ان کا نعرہ ہے ’بل واپسی نہیں تو گھر واپسی نہیں۔‘

Published: 05 Sep 2021, 2:20 PM IST

مظفرنگر کی کسان مہاپنچایت میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔ لہذا خواتین کے لئے علیحدہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ راستہ میں کئی ٹول ٹیکس پڑے لیکن کہیں کوئی پیسہ نہیں لیا گیا۔ پولیس فورسز بڑی تعداد میں یہاں موجود ہیں لیکن وہ خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور انہیں کسی طرح کی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑ رہی کیونکہ سنیوکت کسان مورچہ کے رضاکار یہاں کا پورا نظام سنبھال رہے ہیں۔

Published: 05 Sep 2021, 2:20 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 05 Sep 2021, 2:20 PM IST