قومی خبریں

اکثریت نہ ہونے پر سب سے بڑی پارٹی کو حکومت سازی کی دعوت دینا گورنر کی ذمہ داری: پی چدمبرم

پی چدمبرم نے کہا ہے کہ اگر کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملے تو گورنر کو سب سے بڑی پارٹی کو حکومت سازی کی دعوت دینی چاہیے۔ انہوں نے اسے آئینی روایت اور پارلیمانی اصول قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>پی چدمبرم (فائل)، تصویر یو این آئی</p></div>

پی چدمبرم (فائل)، تصویر یو این آئی

 
ASHISH KAR

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے تمل ناڈو میں حکومت سازی کے معاملے پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی یا اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو تو گورنر کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو حکومت بنانے کے لیے مدعو کرے۔

Published: undefined

پی چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ جمہوری نظام اور پارلیمانی روایت کے مطابق منتخب اراکین کی تعداد کی بنیاد پر سب سے بڑی پارٹی کو پہلے حکومت سازی کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی روایت ہی نہیں بلکہ پارلیمانی نظام کا ایک تسلیم شدہ اصول بھی ہے۔

Published: undefined

انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اگر کسی سیاسی جماعت یا اتحاد کو مکمل اکثریت حاصل نہ ہو تو ایسی صورت میں گورنر کو سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو دعوت دینی چاہیے تاکہ وہ ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کر سکے۔ ان کے مطابق اسمبلی ہی وہ مناسب فورم ہے جہاں کسی بھی پارٹی کا لیڈر اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے اپنی اکثریت ثابت کرتا ہے۔

Published: undefined

پی چدمبرم نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے 1994 کے ایک اہم فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے بھی اپنے فیصلے میں فلور ٹیسٹ کو ہی اکثریت ثابت کرنے کا درست آئینی طریقہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر کو ایوان کے باہر سیاسی اندازوں کے بجائے اسمبلی کے اندر طاقت کے امتحان کو ترجیح دینی چاہیے۔

کانگریس لیڈر نے تمل ناڈو کی ان سیاسی جماعتوں کی بھی تعریف کی جنہوں نے اس اصول کی حمایت کی اور واضح مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار کو مضبوط رکھنے کے لیے آئینی روایتوں کا احترام ضروری ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں اس مرتبہ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ اداکار سے سیاستداں بننے والے وجئے کی پارٹی ’تملگا ویتری کڑگم‘ نے 108 نشستیں حاصل کی ہیں، تاہم حکومت بنانے کے لیے اسے مزید 10 ارکان کی حمایت درکار ہے۔

اکثریت کا ہندسہ حاصل نہ ہونے کے باعث گورنر نے ابھی تک وجئے کو حکومت بنانے کی دعوت نہیں دی ہے۔ دوسری جانب کانگریس پہلے ہی وجئے کی پارٹی کی حمایت کا باضابطہ اعلان کر چکی ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined