سنجے سنگھ، تصویر @AamAadmiParty
لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن ترمیمی بل پاس کرانے میں ناکام مرکزی حکومت پرعام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے سخت حملہ کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ حکومت ’ٹکڑے- ٹکڑے گینگ‘ کی طرح کام کر رہی ہے اور جان بوجھ کر شمال اور جنوب کے درمیان جھگڑا کھڑا کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی۔
Published: undefined
سنجے سنگھ نے ’اے بی پی نیوز‘ کو بتایا کہ مودی حکومت ملک کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ شمال اور جنوب کا جھگڑا کرانا چاہتی تھی۔ وہ جھگڑا اس بل کے پاس نہ ہونے سے رُک گیا ہے۔ خاص طور پر تمل ناڈو میں اڈیشہ کی سیٹیں کم ہورہی تھیں، بنگال کی سیٹیں کم ہورہی تھیں۔ اس طرح لوگوں کے درمیان جو بے اطمینانی پھیل رہی تھی، اس کو پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے ارکان نے ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘ کی کوششوں کو ناکام کر کے ایک طاقت دینے کا کام کیا ہے۔
Published: undefined
سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ ملک کو توڑنے کی کوشش، سیٹوں کو کم کرنے کی کوشش، جنوب اور شمال میں جھگڑا کرانے کی کوشش مودی کی تھی۔ اس کو ناکام کرنے کا کام اپوزیشن نے اس بل کو گرا کر کیا ہے۔ بی جے پی کے ذریعہ اپوزیشن کو خواتین مخالف بتائے جانے پر سنجے سنگھ نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن خواتین مخالف کیسے ہے؟ یہ خواتین ریزرویشن بل نہیں تھا۔ آپ بتائیے کہ جو 2023 میں بل پاس کیا گیا تھا، مودی جی نے اس بل میں لکھا تھا کہ پہلے مردم شماری ہوگی، پھر حد بندی ہوگی اور 2029 کے بعد یہ بل نافذ کیا جائے گا، تب ہم لوگوں نے کہا تھا 543 میں 33 فیصد ریزرویشن آج دے دو اور 2024 میں الیکشن کرا لو لیکن تب تک نہیں مانے۔ یہ اور ہم آج پھر وہی بات دوہرا رہے ہیں۔
Published: undefined
سنجے سنگھ نے کہا کہ لیکن آپ ٹکڑے-ٹکڑے گینگ کی طرح ملک کی ریاستوں کو توڑنے کی جو کارروائی کر رہے ہیں، جنوب اور شمال کے درمیان جھگڑا کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، بنگال کی سیٹیں کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تمل ناڈو اور اڈیشہ میں سیٹیں کم کر رہے ہیں، یہ کس سے پوچھ کر کر رہے ہیں اور کس بنیاد پر کررہے ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کیسے مانی جائے گی، 11 میں تو ذات پر مبنی مردم شماری شامل ہے ہی نہیں تو سیٹوں کو بڑھانے کا کام کیسے اس شماری کی بنیاد پر کردیں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined