قومی خبریں

کینسر کی دواؤں پر 30 فیصد تجارتی منافع کی حد لگائے گی حکومت، مرکز نے سپریم کورٹ میں پیش کی تجویز

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ میں کہا کہ مرکزی حکومت کینسر کی ان دواؤں کی فہرست جاری کرے گی، جن پر 30 فیصد تجارتی منافع کی حد نافذ ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے کینسر کی دواؤں پر ٹریڈ مارجن (تجارتی منافع) کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ زیادہ مارک اَپ (منافع خوری) کو روکا جا سکے اور مناسب منافع بھی یقینی بنایا جا سکے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ مرکزی حکومت کینسر کی ان دواؤں کی فہرست جاری کرے گی، جن پر 30 فیصد تجارتی منافع کی حد نافذ ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بازار کے حالات اور صحت عامہ کی ضروریات کی بنیاد پر اس فہرست کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور اس میں نئی دوائیں شامل کی جائیں گی، جبکہ سستی دواؤں کو اس سے باہر رکھا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے دواؤں کی قیمتوں کی وسیع پیمانے پر جانچ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ عمل صرف کینسر کی دواؤں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے دوا سازی کی پوری مارکیٹ پر نافذ ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے نان-شیڈولڈ دواؤں کی ابتدائی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے اور میڈیکل ڈیوائسز (طبی آلات) کی قیمتوں پر حد مقرر کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت کے لیے 27 اکتوبر کی تاریخ طے کی ہے۔ متوقع فوائد میں ایم آر پی پر 20 سے 70 فیصد تک کمی، سالانہ 2500 کروڑ روپے کی بچت، صارفین کے اخراجات میں کمی اور دواؤں کی سستی قیمتوں پر بہتر دستیابی شامل ہوگی۔ مرکز نے یہ بھی کہا کہ ان دواؤں کے لیے 30 فیصد تجارتی منافع کی حد بالکل مناسب ہوگی۔

گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے اسٹینڈرڈ 16 فیصد ریٹیل مارجن جو ڈرگز پرائس کنٹرول آرڈر، 2013 کے تحت شیڈولڈ دواؤں کے لیے طے ہے، کو تمام نان-شیڈولڈ اور اسپتالوں میں ملنے والی دواؤں پر ایک جیسا نافذ کرنے کی تجویز دی تھی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے اس تجویز پر غور کیا اور کینسر کی دواؤں پر منافع کی حد مقرر کرنے کو بہت چھوٹی بات قرار دیا۔ بنچ نے کہا کہ ہم صرف کینسر کی دواؤں پر ہی نہیں، بلکہ دواؤں کی پوری مارکیٹ کی قیمتوں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔

چند مثالیں پیش کرتے ہوئے عدالت نے سوال کیا کہ بعض دواؤں کی ایم آر پی فروخت کنندگان کے لیے اصل قیمت سے 400 گنا زیادہ کیوں مقرر کی گئی تھی؟ عدالت نے مرکز سے یہ بھی کہا کہ کچھ دواؤں پر قیمتوں کی حد مقرر کرنے اور کچھ کو اس سے باہر رکھنے کے فیصلے کی وجوہات صارفین کے مفاد میں ہونی چاہئیں۔ مرکز نے دلیل دی کہ اختیار کیا جانے والا طریقہ متوازن ہونا چاہیے۔ مہتا نے کہا کہ ’’قیمتوں اور دستیابی کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔‘‘ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ دواؤں کی مارکیٹ میں ان کی دستیابی برقرار رہے۔

مرکز کی جانب سے تشار مہتا نے دلیل دی کہ ’’ہم دواؤں کی پوری رینج کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں پہلے ہی دواؤں کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم ہیں۔ مرکز نے خبردار کیا کہ ضرورت سے زیادہ مداخلت سے مارکیٹ کو نقصان پہنچے گا، دواؤں کی دستیابی میں کمی آئے گی اور ڈسٹری بیوشن مشکل ہو جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔