
آئی اے این ایس
نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت اقلیتی فلاحی منصوبوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مسلسل اپ ڈیٹ اور بہتر بنا رہی ہے۔ انہوں نے تمام ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اقلیتی بہبود سے متعلق اپنی تجاویز جلد از جلد مرکز کو روانہ کریں تاکہ منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے منعقدہ ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت مختلف منصوبوں میں ضروری تبدیلیاں کرتی رہتی ہے تاکہ ان کا فائدہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی جانب سے تجاویز میں تاخیر کی وجہ سے کئی مرتبہ عمل درآمد متاثر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ریاستیں بروقت تجاویز بھیجیں۔
Published: undefined
حج کے معاملے پر بعض سیاسی جماعتوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ حج پر جانے والے مسلمان اپنی ذاتی رقم خرچ کرتے ہیں اور حکومت ہند اس کے لیے کوئی مالی امداد فراہم نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لیڈران سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، جو مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حج کا پورا خرچ عازمین خود برداشت کرتے ہیں۔
کرن رجیجو نے اقلیتوں کی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوستان کی مسلم آبادی کو ایک الگ ملک تصور کیا جائے تو وہ دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پارسی برادری کی آبادی تقریباً باون سے ترپن ہزار کے درمیان ہے، جو ایک بڑے گاؤں کے برابر ہے، لیکن دونوں طبقات کو اقلیتی درجہ حاصل ہے۔
Published: undefined
یہ ایک روزہ کانفرنس قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے نئی دہلی میں منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے کام کاج کا جائزہ لینا اور اقلیتی برادریوں کے لیے جاری فلاحی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ اس اجلاس میں مختلف ریاستوں کے اقلیتی فلاحی وزرا اور دیگر عہدے داروں نے شرکت کی۔
کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر کانفرنس کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ انہوں نے لکھا کہ سشما سوراج بھون میں منعقدہ اس اجلاس میں شرکت ان کے لیے خوش آئند رہی۔ وزیر نے قومی اقلیتی کمیشن کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ترقیاتی امور پر سنجیدہ تبادلہ خیال ہوا اور مختلف ریاستوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اقلیتی کمیشنوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ سماج کے آخری فرد تک پہنچایا جا سکے۔ ان کے مطابق بعض ریاستوں میں بہتر کام ہو رہا ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined