
موبائل فون کی علامتی تصویر
’سنچار ساتھی ایپ‘ کے حوالے سے اپنے قدم واپس کھینچنے کے بعد اب حکومت سیٹلائٹ کے ذریعہ فون کی لوکیشن ٹریک کرنا چاہتی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے حوالے سے ’اے بی پی‘ نے لکھا ہے کہ حکومت ٹیلی کام انڈسٹری کی ایک تجویز پر غور کر رہی ہے، جس میں اسمارٹ فون کمپنیوں کو سیٹلائٹ لوکیشن ٹریکنگ فیچر کو فعال کرنا ہوگا۔ حالانکہ ایپل، گوگل اور سیمسنگ جیسی کمپنیوں نے رازداری کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق سیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (سی او اے آئی) نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ اگر حکومت اسمارٹ فون کمپنیوں کو اے-جی پی ایس ٹیکنالوجی کو فعال کرنے کا حکم دے گی، تبھی صارف کے درست لوکیشن کا پتہ چل سکے گا۔ اس ٹکنالوجی میں سیٹلائٹ سگنل کے ساتھ سیلولر ڈیٹا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے فون کی لوکیشن سروس ہمیشہ آن رہے گی اور صارف کے پاس اسے غیر فعال کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہوگا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ابھی صارف کا لوکیشن معلوم کرنے کے لیے سیلولر ڈیٹا کا استعمال کیا جاتا ہے، جو درست لوکیشن نہیں بتا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے جمعہ (5 دسمبر) کو اس حوالے سے اسمارٹ فون انڈسٹری کے افسران کی ایک میٹنگ بلائی تھی، لیکن فی الحال اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
اسمارٹ فون کمپنیاں ایپل اور گوگل وغیرہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ فیصلہ نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایپل اور گوگل کی نمائندگی کرنے والے لابنگ گروپ سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن (آئی سی ای اے) کا کہنا ہے کہ ’’پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا ہے، جہاں ڈیوائس کی سطح پر لوکیشن ٹریکنگ کی جاتی ہو۔ لوکیشن سرولنس کے لیے اے-جی پی ایس ٹکنالوجی کا کہیں استعمال نہیں کیا جاتا۔‘‘ آئی سی ای اے کا کہنا ہے کہ اس تجویز سے لیگل، پرائیویسی، اور نیشنل سیکورٹی سے متعلق کئی خدشات ہیں۔ صارفین میں افسران، جج اور صحافی سمیت ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں، جن کے پاس حساس معلومات ہیں۔ لوکیشن ٹریکنگ سے ان کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined