قومی خبریں

عدالتی ڈھانچے اور ای۔کورٹ کی جدیدکاری کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے 2010 کروڑ روپے مختص کیے

وزیر قانون نے کہا کہ ’’ حکومت نے ریاستی حکومتوں اور عدلیہ کے اشتراک سے ملک بھر میں عوام کو آسان، تیز اور مؤثر نظامِ انصاف فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ارجن رام میگھوال / ویڈیو گریب</p></div>

ارجن رام میگھوال / ویڈیو گریب

 

حکومت نے ملک میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عدالتوں کے ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کے لیے 2010  کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ای-کورٹ منصوبے کی جدیدکاری، تربیتی پروگراموں اور صلاحیت سازی کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ مرکزی وزیرِ قانون ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ’’ضلع اور ماتحت عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق مرکزی اسپانسرڈ اسکیم کے تحت مرکزی بجٹ 2026 میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کے لیے 810 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عدالتوں کے ڈیجیٹلائزیشن کے لیے جاری ای۔کورٹ پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے کے لیے بجٹ میں 1200 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ رقم عدالتوں کے ڈیجیٹلائزیشن کی توسیع، ضروری تربیت اور صلاحیت سازی کے پروگراموں پر خرچ کی جائے گی۔‘‘

وزیر قانون نے کہا کہ ’’ان اسکیموں کے تحت منظور شدہ اخراجات اور دستیاب فنڈز کی بنیاد پر مناسب بجٹ فراہم کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مقدمات کے جلد تصفیے کا عمل کئی دیگر عوامل پر بھی منحصر ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مقدمات کی نوعیت اور پیچیدگی، تفتیش کا معیار، متعلقہ شواہد کی دستیابی اور عدالت میں ان کی بروقت پیشی، عدالتی کارروائی پر وقت کی پابندی اور عمل درآمد، فریقین کی فعال شرکت اور وکلا کی مؤثر پیروی جیسے متعدد عوامل مقدمات کے فوری فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حکومت نے ریاستی حکومتوں اور عدلیہ کے اشتراک سے ملک بھر میں عوام کو آسان، تیز اور مؤثر نظامِ انصاف فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔‘‘ اسی سلسلے میں اکتوبر 2019 میں عصمت دری اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق زیرِ التوا مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے اہم فیصلہ لیا گیا تھا، اور فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس کے قیام کی مرکزی اسپانسرڈ اسکیم شروع کی گئی تھی۔

اس میں پاکسو ایکٹ، 2012 کے تحت درج مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی ای۔پاکسو عدالتوں کا قیام بھی شامل ہے۔ اس اسکیم میں 2 مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے۔ اس کی آخری مدت 31  مارچ 2026 تک بڑھائی گئی تھی، جس کے تحت  790 فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اب اس اسکیم میں عارضی طور پر مزید توسیع کرتے ہوئے اس کی مدت  30ستمبر 2026 تک کر دی گئی ہے۔ وزیرِ قانون نے بتایا کہ ہائی کورٹس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق 30  اپریل تک ملک کی 29  ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 775  فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس کام کر رہی تھیں، جن میں 398  خصوصی ای۔پوکسو عدالتیں بھی شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، عدالتوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور خصوصی عدالتوں کی تعداد میں اضافے سے ملک میں نظامِ انصاف کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور عام شہریوں کے لیے زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بنانے میں مدد ملے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔