
تصویر/آئی اے این ایس
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کے خلاف ملک بھر کے گِگ اور ایپ پر مبنی ورکرز میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ گِگ اینڈ پلیٹ فارم سروس ورکرز یونین (جی آئی پی ایس ڈبلیو یو) نے حکومت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کمپنیوں کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایپ پر مبنی ڈیلیوری اور ٹرانسپورٹ ورکرز کو کم از کم 20 روپے فی کلومیٹر کی ادائیگی کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی ہفتے کے روز دوپہر 12 بجے سے شام 5 بجے تک ملک بھر میں ایپ خدمات کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
Published: undefined
یونین کا کہنا ہے کہ 15 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قریب 3 روپے فی لیٹر کے اضافے نے لاکھوں گِگ ورکرز کی معاشی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ’جی آئی پی ایس ڈبلیو یو‘ کے مطابق یہ تقریباً 4 سال بعد ایندھن کی قیمتوں میں پہلی بڑی قومی سطح کا اضافہ ہے۔ یونین نے مزید کہا کہ ملک میں تقریباً 1.2 کروڑ گِگ اور پلیٹ فارم ورکرز براہِ راست اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ ان میں فوڈ ڈیلیوری، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور دیگر ایپ پر مبنی خدمات سے وابستہ لوگ شامل ہیں۔
Published: undefined
جی آئی پی ایس ڈبلیو یو نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے بین الاقوامی خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مغربی ایشیا میں جاری تصادم کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یونین کی صدر سیما سنگھ نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں پہلے ہوئے اضافے نے بھی کارکنوں پر بھاری معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اگر جلد ہی اجرت کے ڈھانچے میں تبدیلی نہ کی گئی، تو بڑی تعداد میں گِگ ورکرز اس شعبے کو چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
سیما سنگھ نے حکومت، سوئیگی، زومیٹو اور بلنکٹ جیسی کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ ڈیلیوری اور ٹرانسپورٹ ورکرز کے لیے کم از کم 20 روپے فی کلومیٹر سروس ریٹ طے کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان پلیٹ فارمز سے وابستہ ملازمین طویل وقت تک شدید گرمی اور خراب موسم میں موٹر سائیکل اور اسکوٹر چلا کر کام کرتے ہیں، اس لیے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا سب سے زیادہ اثر انہی پر پڑ رہا ہے۔ یونین نے ملک بھر کے گِگ ورکرز سے اپیل کی ہے کہ وہ ہفتے کے روز دوپہر 12 بجے سے شام 5 بجے تک ایپ پر مبنی خدمات بند رکھ کر اس احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined