
ویڈیو گریب
نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت کا ثبوت نہ مانے جانے کے معاملے پر مرکزی حکومت سے واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزارت خارجہ یہ کہتی ہے کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے تو حکومت کو عوام کے سامنے یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ آخر ہندوستانی پاسپورٹ کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے اور شہریت کے تعین کے لیے بنیادی قانونی دستاویز کون سی ہے۔
Published: undefined
گورو گوگوئی نے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے جاری کیا جانے والا پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ایسا سرکاری دستاویز ہے جسے دنیا بھر کی حکومتیں تسلیم کرتی ہیں۔ ان کے مطابق عام طور پر پاسپورٹ اسی شخص کو جاری کیا جاتا ہے جو ہندوستان کا شہری ہو، اس لیے اگر اسے بھی شہریت کا ثبوت نہ مانا جائے تو اس سے عوام میں الجھن پیدا ہونا فطری ہے۔
Published: undefined
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہندوستان کا پاسپورٹ چین، سری لنکا یا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو بھی جاری کیا جاتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ کہنا کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں، کس قانونی بنیاد پر کہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس سوال کا واضح اور دوٹوک جواب دینا چاہیے تاکہ عوام میں پائے جانے والے شبہات دور ہو سکیں۔
آسام سے تعلق رکھنے والے گورو گوگوئی نے قومی شہری رجسٹر کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے عوام نے قومی شہری رجسٹر سے متعلق پوری کارروائی اور اس کے اثرات کو قریب سے دیکھا ہے، اس لیے یہ خدشہ پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں حکومت کسی نئی انتظامی یا قانونی کارروائی کے ذریعے اسی نوعیت کا نظام دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہی۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ حکومت مرحلہ وار مختلف سرکاری دستاویزات کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے ووٹر شناختی کارڈ، پھر مستقل کھاتہ نمبر کارڈ، آدھار کارڈ اور اب پاسپورٹ کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہیں، جس سے عام شہریوں میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined