قومی خبریں

یوپی بورڈ امتحانات میں اجتماعی نقل کرانے والے گروہ کا پردہ فاش، 6 ملزمین گرفتار

گرفتار ملزمان میں کالج انتظامیہ کے اہلکار، اساتذہ اور جوابی کاپیاں لکھنے والے شامل ہیں۔ ایس ٹی ایف کے مطابق یہ پورا نیٹ ورک کالج کے پرنسپل امریش اور اس کے بھائی آشیش کی ملی بھگت سے چلایا جا رہا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل فوٹو</p></div>

فائل فوٹو

 

 اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے اتر پردیش بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ امتحانات میں بڑے پیمانے پراجتماعی نقل کرانے والے ایک بڑے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ ایس ٹی ایف نے مین پوری ضلع میں مہاراج سنگھ اسمارک انٹر کالج میں چھاپے ماری کرکے کالج انتظامیہ کے ارکان، اساتذہ اور پرچہ حل کرنے والے سمیت 6 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمین میں کالج انتظامیہ سے وابستہ آشیش، استاد ارون کمارعرف ٹنکو، استاد انوپ کماراور حل کرنے والے شیو چوہان، اونیت اورابھیجیت سنگھ شامل ہیں۔ ایس ٹی ایف کے مطابق یہ پورا نیٹ ورک کالج کے پرنسپل امریش اور اس کے بھائی آشیش کی ملی بھگت سے چلایا جا رہا تھا۔

Published: undefined

یو پی ایس ٹی ایف میڈیا سیل نے بتایا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کالج انتظامیہ کے ذریعہ روم انسپکٹروں، اساتذہ اور حل کرنے والوں کی مدد سے بڑے پیمانے پر اجتماعی نقل کرائی جارہی تھی۔ امیدواروں سے بھاری رقم وصول کرکے ان کی کاپیاں دوسروں سے لکھوائی جارہی تھیں۔ اس کے علاوہ کچھ معاملات میں اساتذہ اور انتظامیہ سے وابستہ لوگ  جواب بول بول بھی کاپیاں حل کرارہے تھے۔

Published: undefined

اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے مطابق اس غیر قانونی سرگرمی کے لیے امیدواروں سے تقریباً 5000 روپے فی پیپر وصول کیے جارہے تھے۔ کاپیاں لکھنے والوں کو بھی کافی رقم ادا کی جا رہی تھی۔ چھاپے کے دوران ایس ٹی ایف نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد برآمد کیے، جن میں دو لکھی ہوئی جوابی کاپیاں، انٹرمیڈیٹ ریاضی کتاب، انٹرمیڈیٹ بیالوجی سائنس کا سوال نامہ، 6موبائل فون سمیت دیگر قابل اعتراض سامان شامل ہیں۔ ایس ٹی ایف نے بتایا کہ اس سنگین معاملے مزید تفتیش جاری ہے اور گروہ میں شامل دیگر افراد کے کردار کی جانچ کی جارہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined