قومی خبریں

فرش سے اٹھائے نوڈلز سے بن رہی تھی نمکین؟ فوڈ اتھارٹی نے 32 ہزار کلو اسٹاک کیا ضبط

فرش سے جمع کیے گئے ٹوٹے نوڈلز کو مبینہ طور پر بغیر ہیٹ ٹریٹمنٹ بھجیا میں استعمال کرنے پر ایف فسائی نے سی جی فوڈ انڈیا کا 32107 کلو اسٹاک ضبط کیا اور پیداوار روکنے کا حکم دیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی یا فسائی) نے غذائی تحفظ کے ضوابط کی خلاف ورزیوں پر وائی وائی نوڈلز بنانے والی کمپنی سی جی فوڈ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ اتھارٹی نے کمپنی کی راجستھان کے اجمیر ضلع میں واقع یونٹ کو ویج بھجیا نمکین کی تیاری فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی ہے۔

فسائی کے مطابق روپن گڑھ میں کمپنی کے پلانٹ کے معائنہ کے دوران غذائی اشیا کی غیر محفوظ پروسیسنگ، بغیر لائسنس پیداوار، پیکیجنگ پر گزشتہ تاریخ درج کرنے اور حفظانِ صحت سے متعلق کئی خامیاں سامنے آئیں۔

فوڈ ریگولیٹر نے موقع سے مجموعی طور پر 32107.2 کلوگرام اسٹاک ضبط کیا۔ اس میں کھلے میں رکھے گئے ٹوٹے ہوئے نوڈلز بھی شامل تھے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے بتایا کہ فرش سے جمع کیے گئے ٹوٹے ہوئے نوڈلز کو بغیر ہیٹ ٹریٹمنٹ کے دوبارہ پروسیس کرکے بھجیا مصنوعات میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

معائنہ کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ مصنوعات کی پیکیجنگ پر گزشتہ تاریخیں درج کی جا رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ’وائی وائی ماما‘ اور ’وائی وائی ماما پونٹے‘ نامی بھجیا ویریئنٹس کی تیاری بھی بغیر ضروری لائسنس کے کی جا رہی تھی، جو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کی دفعہ 31(1) کی خلاف ورزی ہے۔

ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق پلانٹ میں صفائی اور دستاویزات سے متعلق بھی متعدد خامیاں پائی گئیں۔ ان میں مناسب پیسٹ کنٹرول ریکارڈ کا دستیاب نہ ہونا اور غذائی صفائی و تحفظ کے حوالے سے دیگر ضروری تقاضوں کی عدم تکمیل شامل ہے۔

ریگولیٹری جانچ کے لیے مختلف مصنوعات کے نمونے بھی لیے گئے ہیں۔ ان میں کھلے میں رکھے نوڈلز کا مواد، دونوں ویج بھجیا مصنوعات، فرائنگ لائن میں استعمال ہونے والا کوکنگ آئل اور ’وائی وائی ریڈی ٹو ایٹ نوڈلز‘ شامل ہیں۔ ان نمونوں کو لیبارٹری جانچ کے لیے بھیجا جائے گا۔

اس کے علاوہ معیاد ختم ہو چکی تیار مصنوعات کے 1,925 ڈبے بھی حکام نے اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ ایف ایس ایس اے آئی نے کہا ہے کہ کمپنی کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ریگولیٹر نے کمپنی کو مناسب منظوری اور ضروری اصلاحی اقدامات کے بغیر ویج بھجیا نمکین مصنوعات کی تیاری بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹ اور معائنے کے نتائج کی بنیاد پر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت مزید ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اسی روز ایف ایس ایس اے آئی نے کرناٹک کے بنگلورو میں واقع برٹش لائف سائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف بھی کارروائی شروع کی۔ معائنے کے دوران غلط لیبل والی اور معیاد ختم ہو چکی بچوں کی غذائی مصنوعات بڑی مقدار میں پائی گئیں، جنہیں ضبط کر لیا گیا۔

ایف ایس اے آئی نے کہا کہ یہ کارروائی بچوں، خصوصاً شیر خوار اور کم عمر بچوں کے لیے تیار کی جانے والی غذائی مصنوعات کی حفاظت اور ضابطوں کی پابندی یقینی بنانے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔