
محسنہ قدوائی / Getty Images /
کانگریس کی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کا 93 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے دہلی کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، خاص طور پر اتر پردیش کے بارہ بنکی ضلع میں سوگ کا ماحول ہے جہاں ان کا آبائی تعلق رہا۔
Published: undefined
محسنہ قدوائی کا شمار کانگریس کے تجربہ کار اور بااثر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ نہرو-گاندھی خاندان کے قریب سمجھی جاتی تھیں اور طویل عرصے تک قومی سیاست میں فعال کردار ادا کرتی رہیں۔ ان کے انتقال پر کانگریس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
محسنہ قدوائی کی سیاسی زندگی نہایت طویل اور متحرک رہی۔ انہوں نے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی قیادت میں مرکزی حکومت میں اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان میں صحت و خاندانی بہبود، شہری ترقی، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور دیہی ترقی جیسے اہم شعبے شامل رہے۔ ان کی انتظامی صلاحیت اور عوامی رابطے کو ہمیشہ سراہا جاتا رہا۔
Published: undefined
مرکزی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے سے پہلے محسنہ قدوائی اتر پردیش کی سیاست میں بھی سرگرم رہیں۔ وہ ریاستی حکومت میں خوراک و شہری رسد، سماجی بہبود اور چھوٹی صنعتوں جیسے محکموں کی وزیر رہیں۔ اس کے علاوہ وہ اتر پردیش اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی رکن بھی رہیں، جبکہ بعد میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی رکنیت بھی حاصل کی۔
محسنہ قدوائی کی پیدائش یکم جنوری 1932 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور شروع ہی سے سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کا سیاسی سفر اتر پردیش سے شروع ہوا اور وہ بتدریج قومی سطح پر ایک مضبوط شناخت بنانے میں کامیاب رہیں۔ انہیں ایک سنجیدہ، باوقار اور زمینی سطح سے جڑی ہوئی رہنما کے طور پر جانا جاتا تھا۔
Published: undefined
خاندانی ذرائع کے مطابق محسنہ قدوائی کا آبائی تعلق بارہ بنکی کے مساولی علاقے سے تھا اور وہ اکثر اپنے گاؤں کا دورہ کیا کرتی تھیں۔ ان کے انتقال سے ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں میں گہرا صدمہ ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق محسنہ قدوائی کی تدفین دہلی میں ہی عمل میں آئے گی۔ ان کے انتقال کو ملکی سیاست میں ایک اہم خلا قرار دیا جا رہا ہے، جسے پر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined