
راجدھانی دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر ہر کوئی فکر مند نظر آ رہا ہے۔ اب راجدھانی دہلی کی آلودہ ہوا کے متعلق سابق لیفٹیننٹ گورنر اور آئی پی ایس افسر کرن بیدی نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کہا کہ ’’ہوا مسلسل زہریلی ہوتی جا رہی ہے، لیکن انتظامی تال میل اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی کمی اس بحران کو ہر سال مزید سنگین بنا رہی ہے۔‘‘
Published: undefined
کرن بیدی کے ذریعہ وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط میں مذکور ہے کہ ’’دہلی-این سی آر کی ہوا کا معیار اب صحت عامہ کے لحاظ سے ایمرجنسی بن چکا ہے اور اسے صرف عارضی اقدامات سے حل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کرن بیدی نے کہا کہ اپنی مدت کار میں کئی قومی چیلنجوں پر بروقت کارروائی کو جس طرح یقینی بنایا تھا، اسی طرح کی اعلیٰ سطحی اور باقاعدہ نگرانی آج دہلی کے آلودگی کے بحران کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
Published: undefined
کرن بیدی نے خط کے ذریعہ وزیر اعظم مودی کو 4 مشورے بھی دیے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تینوں پڑوسی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سکریٹریوں کے ساتھ وزیر اعظم کی ہر ماہ آن لائن میٹنگ ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی اعلیٰ سطح پر باقاعدہ جائزہ لینے سے ریاستوں میں جوابدہی بڑھے گی اور حالات کو خراب ہونے سے روکا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے ’من کی بات‘ پروگرام کے ذریعہ عوامی شرکت کا پیغام دینے کا مشورہ دیا ہے۔ محکمانہ ہم آہنگی کی کمی کو دور کرنے کے مشورہ کے ساتھ ہی انتظامیہ کو فعال کیے جانے کی بات بھی کہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت صرف میٹنگوں سے نہیں چلتی، بلکہ افسران کو میدان میں اتر کر صورتحال کا حقیقی اندازہ لگانا چاہیے۔
Published: undefined
کرن بیدی کا کہنا ہے کہ ہر سال آلودگی کا بحران اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ کہ حکومت فوری اقدامات پر انحصار کرتی ہیں، جیسے اسماگ ٹاور اور آڈ-ایون۔ اسی طرح کئی ایجنسیوں کے درمیان ذمہ داری تقسیم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں، صنعتی، تعمیراتی دھول اور پرالی جیسے آلودگی کے بڑے ذرائع کو مؤثر طریقے سے کنڑول نہیں کیا جاتا۔ ساتھ ہی طویل مدتی منصوبوں کے مقابلہ میں قلیل مدتی سیاسی فوائد فوقیت پا جاتے ہیں۔ جبکہ صحیح معنوں میں بہتری کے لیے مضبوط نفاذ، صاف توانائی اور ٹرانسپورٹ میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined