
چمپت رائے، تصویر بشکریہ @ChampatRaiVHP
اتر پردیش کے ایودھیا میں رام مندر چندہ چوری کا معاملہ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ اب اس معاملہ میں رام مندر تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے نے مندر تعمیر کمیٹی کے سربراہ اور سابق آئی اے ایس نرپیندر مشرا سے متعلق حیران کرنے والے دعوے کیے ہیں۔ چمپت رائے نے 9 صفحات میں 33 نکات پر مشتمل ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کئی اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
چمپت رائے نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ مندر کی تعمیر میں وہی سب ہوا جو نرپیندر مشرا نے چاہا۔ 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد سے لے کر آج تک کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے چمپت رائے نے دعویٰ کیا ہے کہ تعمیر کے لیے کون سی کمپنی کام کرے گی اور معمار کون ہوگا، یہ سبھی فیصلے نریپیندر مشرا نے کیے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کئی معاملات میں ایسا بھی ہوا کہ نرپیندر مشرا کے علاوہ کسی اور کے فیصلے یا مشورے کو اہمیت نہیں دی گئی۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ مندر کی تعمیر سے متعلق تمام فیصلوں میں نرپیندر مشرا ہی اہم رہے۔ مشرا کے کہنے پر ہی ایل اینڈ ٹی کو تعمیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ سابق جنرل سکریٹری نے کہا کہ نرپیندر مشرا کے ساتھ انوپ متل میٹنگ میں آتے تھے، لیکن تعمیر کے تمام فیصلوں میں مشرا ہی اہم رہے۔
اپنے بیان میں چمپت رائے کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہی حکومت ہند نے ’رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر‘ کے نام سے آزاد ٹرسٹ بنایا، جس میں 15 ٹرسٹی لکھے گئے۔ ایک ٹرسٹی نرموہی اکھاڑہ کی ایودھیا میٹنگ کے لیے محفوظ رکھا گیا، ایک ٹرسٹی درج فہرست ذات و قبائل کے لیے محفوظ رکھا گیا۔ مقامی ضلع مجسٹریٹ، اتر پردیش حکومت اور حکومت ہند کے ایک ایک نمائندے جو آئی اے ایس افسر ہیں، عہدے کے اعتبار سے ٹرسٹی بنائے گئے، حکومت ہند کے مشورے پر ایک عہدے کے اعتبار سے ٹرسٹی سینئر انتظامی افسر کو ٹرسٹی بنایا گیا، انہیں مندر تعمیر کمیٹی اور مندر سے متعلق تمام کاموں کے انتظام کی کمیٹی کا صدر بنایا گیا۔ آج اسی عہدے پر نرپیندر مشرا ہیں۔ ان کے علاوہ سینئر وکیل کیشو پاراسرن بانی ٹرسٹی ہیں، اڈوپی، پونے، پریاگ راج، ہریدوار سے ایک ایک سنت، ایودھیا سے ایک سنت اور دیگر 3 ٹرسٹی بنائے گئے۔
چمپت رائے آگے لکھتے ہیں کہ نرپیندر مشرا کے مشوروں کی بنیاد پر ہی لارسن اینڈ ٹوبرو کو مندر کی تعمیر کے لیے منتخب کیا گیا اور اسی سطح کی ادارہ جاتی حیثیت رکھنے والی پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ (پی ایم سی) ہونی چاہیے، اس لیے ٹاٹا (ٹی سی ای) کو منتخب کیا گیا۔ مندر کے معمار احمد آباد کے رہنے والے چندرکانت بھائی سومپورا کا انتخاب آنجہانی اشوک سنگھل نے 1986 میں کیا تھا، انہی کو برقرار رکھا گیا اور دیگر عمارتوں کی تعمیر کے لیے نوئیڈا کی فرم ڈیزائن ایسوسی ایٹ کو نرپیندر مشرا نے ہی منتخب کیا۔
اپنے تحریری بیان میں چمپت رائے نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ نرپیندر نے اپنی مدد کے لیے مندر تعمیر کمیٹی میں اپنی پسند کے کچھ افراد کو شامل کیا، جن میں سے ایک کو گزشتہ 6 برسوں میں ایک یا 2 مرتبہ ہی ایودھیا بلایا گیا۔ ایک دیگر رکن سے حفاظتی کاموں سے متعلق مشورے لیے گئے۔ تیسرے رکن انوپ متل (سابق چیئرمین این بی سی سی) ہمیشہ نرپیندر کے ساتھ مندر تعمیر کمیٹی کی میٹنگ میں آتے تھے۔ یہ میٹنگ ہر ماہ ہوتی تھی، کچھ عرصے تک 15 دن میں ایک بار ہوتی رہی اور ہر فیصلہ اسی کمیٹی میں ہوتا تھا۔ ایسا ایک بھی کام نہیں ہوا، جس کا فیصلہ کمیٹی میں نہ ہوا ہو۔ اگر فیصلہ کر بھی لیا گیا تو اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ چمپت رائے نے الزام عائد کیا کہ مندر کی تعمیر کے تمام فیصلوں کے لیے نرپیندر مشرا نے ہمیشہ خود کو ہی اہم قرار دیا۔
سابق جنرل سکریٹری کی جانب سے یہ الزامات ایسے وقت میں لگائے گئے ہیں جب ایک طرف چندہ چوری کے معاملے میں ایس آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہیں اور دوسری طرف نرپیندر مشرا نے مندر کی تعمیر مکمل ہونے کا وقت مارچ 2027 بتایا ہے۔ یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ چندہ چوری کے معاملے میں ایک میڈیا ادارہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نرپیندر مشرا نے کہا تھا کہ انہیں یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ یہ بدانتظامی کا معاملہ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈکیتی بھی ہے۔ مشرا نے کسی کا نام لیے بغیر یہ بھی کہا تھا کہ اپنی مرضی کے مطابق تقرریاں کی گئی ہیں۔
بہرحال، چمپت رائے کا یہ بیان اس لیے اہم ہو جاتا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں چندہ چوری معاملہ میں ان پر سنگین الزامات لگے تھے، تاہم ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں انہیں کلین چٹ مل گئی۔ اس کلین چٹ کے بعد انہوں نے مندر کی تعمیر اور مندر سے متعلق فیصلوں پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔