
تصویر پریس ریلیز
نئی دہلی: معروف ادیب اور نقاد ڈاکٹر وشوناتھ ترپاٹھی نے اپنے استاد آچاریہ ہزاری پرساد دیویدی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پنڈت جی کا پورا ادبی سرمایہ اور تنقیدی کام تحقیق پر مبنی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے طلبہ کو تحقیق کی گہرائی میں اترنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جس قدر موضوع میں ڈوب کر مطالعہ کیا جائے گا اتنے ہی قیمتی نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج پنڈت جی موجود ہوتے تو اس بات پر یقیناً خوش ہوتے کہ ان کے نام سے ایسا اعزاز شروع کیا گیا ہے جو مکمل طور پر تحقیقی کام کے لیے وقف ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر وشوناتھ ترپاٹھی نئی دہلی کے ساہتیہ اکادمی سبھاگار میں ہزاری پرساد دیویدی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ پہلے ’آچاریہ ہزاری پرساد دیویدی تحقیقی اعزاز‘ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر راجکیہ مہاودیالیہ سلومبر، راجستھان کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر چندن تیواری کو ان کے تحقیقی مقالے ’آچاریہ ہزاری پرساد دیویدی کا بھاشا چنتن‘ پر اس اعزاز سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر چندن تیواری کو اعزاز کے طور پر یادگاری نشان، سند، آچاریہ ہزاری پرساد دیویدی کے ادبی کاموں پر مشتمل کتب اور اکیس ہزار روپے کی نقد رقم پیش کی گئی۔ یہ نقد رقم معروف مزاحیہ شاعر پدم شری سریندر شرما نے اپنی جانب سے فراہم کی۔ اس کے علاوہ راجکمل پرکاشن کی جانب سے ڈاکٹر چندن تیواری کے اسی تحقیقی مقالے پر مبنی کتاب کی رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی۔
Published: undefined
تقریب میں ادب اور تعلیم کے میدان سے وابستہ متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔ ان میں معروف مزاحیہ شاعر پدم شری سریندر شرما، دہلی یونیورسٹی کے جنوبی کیمپس کے شعبۂ ہندی کے صدر پروفیسر انل رائے، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر نیرج کمار، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر وید پرکاش، راجکمل پرکاشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اشوک مہیشوری اور دیگر ادبی و تعلیمی شخصیات شامل تھیں۔
ہزاری پرساد دیویدی میموریل ٹرسٹ کی صدر ڈاکٹر اپرنا دیویدی نے اپنے خطاب میں تحقیقی اعزاز کے آغاز کے پس منظر اور اس کی ضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے ٹرسٹ کی مختلف ادبی اور علمی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔
Published: undefined
تقریب کے دوران پدم شری سریندر شرما نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں حاضرین کو محظوظ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شاعری وہ لوگ کرتے ہیں جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اور ان کی شاعری پر تحقیق وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم اور مطالعہ میں گہرائی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق شاعر پسینے پر نظم لکھتا ہے جسے پسینہ بہانے والا شخص سمجھ نہیں پاتا، لیکن اسے سمجھنے کے لیے ہم جیسے لوگوں کو واقعی پسینہ بہانا پڑتا ہے۔
تقریب کی نظامت سینئر صحافی اور کالم نگار اویناش چندر نے انجام دی جبکہ ٹرسٹ کے خزانچی رتنیش مشر نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز