
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کے خلاف کولکاتا کی ہیئر اسٹریٹ پولیس نے ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ کارروائی ایک مقامی شہری کی تحریری شکایت کی بنیاد پر کی گئی، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران ایک عوامی جلسے میں ایسا بیان دیا جو اشتعال انگیز تھا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا تھا۔
شکایت کولکاتا کے سوبالیا علاقے کے رہائشی تشار کانتی داس نے درج کرائی۔ شکایت کے مطابق ممتا بنرجی نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے مبینہ ’گمراہ کن پروپیگنڈے‘ سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کس قسم کے پروپیگنڈے کی بات کر رہی ہیں۔
Published: undefined
شکایت گزار کا کہنا ہے کہ جلسے میں دیا گیا بیان بظاہر لوگوں کو مشتعل کرنے والا محسوس ہوتا ہے اور مختلف برادریوں کے درمیان غلط فہمی، خوف اور کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات سماجی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے بعد کولکاتا اور مغربی بنگال کے مختلف اضلاع میں فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔ شکایت گزار نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان واقعات کا تعلق انتخابی مہم کے دوران دیے گئے اس بیان سے ہو سکتا ہے، جس کی مکمل جانچ ضروری ہے۔
Published: undefined
تشار کانتی داس نے اپنی شکایت کے ساتھ متعلقہ ریلی کی ویڈیو ریکارڈنگ ایک پین ڈرائیو میں پولیس کے حوالے کی ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو اور دیگر الیکٹرانک شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کرائی جائیں۔
شکایت گزار نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر یہ بیان واقعی انتخابی مہم کے دوران دیا گیا تھا تو اس کا جائزہ انتخابی ضابطہ اخلاق اور انتخابی قوانین کے تحت بھی لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر تحقیقات میں کسی قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
Published: undefined
پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ تاہم فوری طور پر ممتا بنرجی یا ترنمول کانگریس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق شکایت میں پیش کیے گئے شواہد اور ویڈیو مواد کی جانچ کے بعد آئندہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined