قومی خبریں

جمہوریت کی بحالی تک لڑائی جاری رہے گی، مودی، شاہ اور گیانیش کمار کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت اور انتخابی نظام کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی، شاہ اور گیانیش کمار کے خلاف لڑائی جمہوریت کی بحالی تک جاری رہے گی

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس سے خطاب کرتے راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے اپوزیشن کی لڑائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور انتخابی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے اور آئین کو اٹھا کر پھینک دیا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہندوستان کے آئین کو تباہ کر کے بچ نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

انڈیا بلاک اور سول سوسائٹی کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مل کر جمہوریت کی بحالی اور ملک میں حقیقی جمہوری نظام قائم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الگ الگ احتجاج نہیں ہیں، بلکہ ان سب کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہندوستان میں جمہوریت کو بحال کرنا ہے۔

راہل گاندھی نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت اور جمہوری اظہار کے مواقع محدود کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنتر منتر کو اب جمہوری جذبات کے اظہار کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، لیکن اپوزیشن اس سوچ کو چیلنج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ نہ سمجھے کہ ہندوستان کے عوام اپنی آواز کے لیے جدوجہد نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کل کے احتجاج میں صرف سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہی نہیں، بلکہ ملک کے عام شہریوں کے جذبات بھی شامل تھے۔ راہل گاندھی نے دہلی اور ملک کے دیگر حصوں کے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی کسی سیاسی جماعت کے مفاد کے لیے نہیں، بلکہ ہندوستان کے عوام اور ان کے مستقبل کے لیے ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اس سازش کے اصل ذمہ دار وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، جبکہ امت شاہ اس پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر افراد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے ایک خاتون کا بھی ذکر کیا جو ان کے بقول اس وقت دہرادون میں چھپی ہوئی ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن کی جدوجہد فوری طور پر ختم ہونے والی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی آج، کل، چند ماہ یا ایک دو سال میں ختم نہ بھی ہو، تب بھی ان کی ٹیم اپنے آخری مقصد کے حصول تک آگے بڑھتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی آئندہ حکمت عملی ظاہر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اس سے منصوبے کی رازداری اور حیرت کا عنصر ختم ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ، چیف جسٹس آف انڈیا اور ملک کے عدالتی نظام کا بہت احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ اپنا کردار ادا کرے گی، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ سیاسی اور عوامی مزاحمت بھی جاری رہے گی۔

راہل گاندھی نے پریس کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں ہمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔