قومی خبریں

بہار اور آسام میں سیلاب کا خوفناک منظر، اب تک 26 لوگوں کی موت

بہار اور آسام کے کئی اضلاع میں سیلاب سے حالات بدتر ہو چکے ہیں۔ دونوں ریاستوں میں 26 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے تقریباً 45 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

بہار اور آسام میں بارش اور سیلاب سے ہنگامہ برپا ہے۔ بارش اور سیلاب ے قہر سے دونوں ریاستوں میں اب تک 26 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ دونوں ریاستوں کے کئی اضلاع کے حالات بد سے بدتر ہو چکے ہیں۔ خبروں کے مطابق بہار میں سیلاب سے اب تک 19 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ آسام میں بھی کم و بیش 7 لوگ اس سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔

Published: undefined

سیلاب کی وجہ سے صرف ارریہ میں ہی 9 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جب کہ موتیہاری میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد اب تک 10 پہنچ گئی ہے۔ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں راحت اور بچاؤ کے کام میں لگاتار مصروف ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے 7 ٹرینوں کو رَد کر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

بہار کے جن علاقوں میں سیلاب کا سب سے زیادہ اثر ہے ان میں ارریہ، کشن گنج، سپول، دربھنگہ، شیوہر، سیتامڑھی، مشرقی چمپارن، مدھوبنی ضلع شامل ہیں۔ بہار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کے مطابق ندیوں کی آبی سطح بڑھنے سے چمپارن، مدھوبنی، شیوہر، سیتامڑھی، ارریہ اور کشن گنج میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہے۔

Published: undefined

مظفر پور ضلع میں باگ متی ندی کی آبی سطح مستحکم رہنے کے باوجود کٹرا اور اورائی میں سیلاب کی صورت حال خطرناک بنی ہوئی ہے۔ مشرقی چمپارن کے نئے علاقوں میں پانی تیزی سے داخل ہو رہا ہے۔ مدھوبنی میں کملا بلان اور دھوس ندی کا پشتہ ٹوٹنے سے ضلع کی حالت کافی خراب ہو گئی ہے۔ دربھنگہ میں چار مقامات پر کملا ندی کا پشتہ ٹوٹ گیا ہے۔

Published: undefined

آسام میں 33 میں سے 25 اضلاع میں سیلاب کی وجہ سے تقریباً 15 لاکھ لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ریاست میں سیلاب کی زد میں آ کر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق متاثرہ اضلاع میں دھیماجی، لکھیم پور، بسوناتھ، نلباڑی، چرانگ، گولہ گھاٹ، ماجولی، جور ہاٹ، ڈبرو گڑھ، نگاؤں، کوکراجھار، بونگائی گاؤں، بکسا، سونت پور، درانگ اور بارپیٹا شامل ہیں۔ بارپیٹا میں حالت سب سے زیادہ سنگین ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined