علامتی تصویر، سوشل میڈیا
مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے تہواروں کے موسم میں کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ روکنے کے لیے نیا نظام شروع کیا ہے۔ محکمہ نے پورے سال ہونے والے تہواروں کے لیے ایک مستقل حکم جاری کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’فیسٹیول انفورسمنٹ پورٹل‘ بھی لانچ کیا گیا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ملاوٹ شدہ اور غیر محفوظ غذائی اشیا پر نظر رکھنا ہے۔ اس نظام سے کارروائی کو تیز، شفاف اور مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔
ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ تہواروں کے دوران کچھ غذائی اشیا کی طلب اچانک بہت بڑھ جاتی ہے۔ ان میں مودک، پیڑا، کھویا، پنیر، گھی، دودھ، دہی، خوردنی تیل اور خشک میوے شامل ہیں۔ ورَت کے دوران بھی بھگر، صابودانہ جیسی اشیا کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ کم وقت میں طلب بڑھنے کا فائدہ اٹھا کر بازار میں ملاوٹ شدہ اور غیر محفوظ اشیا پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے ایف ڈی اے نے پورے سال کے تمام تہواروں کے لیے مستقل نظام نافذ کیا ہے۔
’فیسٹیول انفورسمنٹ پورٹل‘ پر مکر سنکرانتی سے لے کر کرسمس تک پورے سال کے تہواروں کی معلومات دستیاب رہیں گی۔ تہواروں کو 3 سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ لیول-1 میں ریاستی سطح کے تہوار ہوں گے۔ لیول-2 میں علاقائی اور لیول-3 میں مقامی تہوار شامل ہوں گے۔ تہواروں کے دوران منڈل اب بھنڈارا، اناچھتر اور مہاپرساد جیسے اجتماعی کھانے کے پروگراموں کی معلومات آن لائن فراہم کر سکیں گے۔ اس کے لیے انہیں ایف ڈی اے کے دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ درخواست موصول ہونے کے بعد افسران کی تعیناتی اور موقع پر کی گئی جانچ کی صورت حال بھی آن لائن دیکھی جا سکے گی۔
ایف ڈی اے نے بتایا کہ پوری ریاست میں 90 زون کے لیے افسران کی تعیناتی کی جائے گی۔ پورٹل پر اب تک بھنڈارا، اناچھتر اور مہاپرساد کے انعقاد سے متعلق 3,198 درخواستیں آن لائن موصول ہوئی ہیں۔ خطرے کی بنیاد پر فوڈ سیفٹی افسران نے 383 مقامات کا موقع پر جا کر معائنہ کیا۔ اس دوران منڈلوں کو کھانا بنانے کی جگہ، پینے کے پانی، خام مال کے معیار، کھانے کے ذخیرے اور ملازمین کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے ضروری ہدایات دی گئیں۔
ایف ڈی اے نے بتایا کہ یکم سے 23 ستمبر کے درمیان پورے مہاراشٹر میں 3,068 غذائی اداروں کا معائنہ کیا گیا۔ جانچ میں خامیاں پائے جانے پر 1,506 اداروں کو اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے۔ سنگین ضابطہ خلاف ورزی کے معاملات میں 248 اداروں کے لائسنس معطل کیے گئے، جبکہ 12 لائسنس منسوخ کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ فوڈ قانون کی دفعہ 69 کے تحت 455 معاملات درج کیے گئے۔ ان میں سے 398 معاملات نمٹا دیے گئے ہیں۔ ان معاملات میں مجموعی طور پر 53.60 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ خطرے کی بنیاد پر کی جانے والی جانچ سے دستیاب ملازمین کا بہتر استعمال ہو رہا ہے۔ اس سے ان مقامات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جہاں ملاوٹ یا غذائی تحفظ سے متعلق خطرہ زیادہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔