قومی خبریں

میرٹھ میں کسانوں کی مہاپنچایت، راکیش ٹکیت کا گنے کی قیمت 500 روپے فی کوئنٹل کرنے کا مطالبہ

میرٹھ میں کسانوں کی مہاپنچایت میں راکیش ٹکیت نے گنے کی قیمت 500 روپے فی کوئنٹل کرنے، بجلی کی شرح کم کرنے، زمین کے بہتر معاوضے اور سیلاب متاثرہ کسانوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>راکیش ٹکیت / آئی اے این ایس</p></div>

راکیش ٹکیت / آئی اے این ایس

 

میرٹھ: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت کی قیادت میں منگل کو اتر پردیش کے میرٹھ میں کسانوں کی مہاپنچایت منعقد ہوئی، جس میں کسانوں سے متعلق متعدد مسائل اور مطالبات کو نمایاں طور پر اٹھایا گیا۔ مہاپنچایت میں گنے کی قیمت میں اضافہ، بقایا ادائیگی، بجلی کی مہنگی شرح، کھاد کی دستیابی، زمین کے حصول اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے جیسے مسائل پر حکومت سے توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

راکیش ٹکیت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کسان کئی محاذوں پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کسانوں کی پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ان کی فصلوں کی قیمتیں اس رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور زمین کے حصول سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زمین کے سَرکل ریٹ کم ہیں، جبکہ بجلی کی شرح زیادہ ہے۔ حکومت کو کسانوں کی لاگت اور آمدنی کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق پر توجہ دینی چاہیے۔

گنے کے کاشتکاروں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ٹکیت نے کہا کہ گنے کی قیمت میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گنے کا نرخ بڑھا کر 500 روپے فی کوئنٹل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور کھانے پینے کی اشیا سے لے کر کپڑے اور روزمرہ استعمال کی چیزوں تک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن کسانوں کی فصلوں کی قیمتیں اسی تناسب سے نہیں بڑھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کو کم از کم گزشتہ سال کے مقابلے میں چینی کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا فائدہ ملنا چاہیے۔ حکومت کو کسانوں کی آمدنی اور پیداواری لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے فصلوں کی مناسب قیمت یقینی بنانی چاہیے۔ ٹکیت نے آلو کے کاشتکاروں کی مشکلات بھی اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ آلو پیدا کرنے والے کسان بھی نقصان سے دوچار ہیں۔ کھیتی کی لاگت بڑھنے کے باوجود انہیں اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے بجلی اور کھاد کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ان کی دستیابی پر بھی سوال اٹھایا۔

زمین کے حصول کے معاملات میں کسانوں کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹکیت نے کہا کہ زمین کے موجودہ سَرکل ریٹ میں اضافہ کیا جانا چاہیے، تاکہ حصولِ اراضی کی صورت میں کسانوں کو ان کی زمین کی مناسب قیمت مل سکے۔ انہوں نے کسانوں کے لیے بجلی کی شرح کم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

مہاپنچایت میں کھادر علاقے میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا۔ ٹکیت نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے کسانوں کی فصلوں اور زمین کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ حکومت کو متاثرہ کسانوں کو مناسب معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ سیلاب سے مستقل تحفظ کے لیے بندھوں اور دیگر ضروری اقدامات کا انتظام کرنا چاہیے۔

راکیش ٹکیت نے امریکہ کے ساتھ دہلی میں جاری معاہدے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بین الاقوامی معاہدوں کا اثر بھارتی کسانوں پر پڑ سکتا ہے۔ حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ کسی بھی بین الاقوامی سمجھوتے سے کسانوں کے مفادات متاثر نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں میں کسانوں کے مفادات کو مرکز میں رکھا جانا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔