قومی خبریں

’ثبوت بحث نہیں کرتے، فیصلہ کرتے ہیں‘، آپریشن سندور کی سالگرہ سے قبل ہندوستانی فوج کا تبصرہ

’آپریشن سندور‘ کے تحت کی گئی کارروائی صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا ثبوت تھا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@adgpi</p></div>

تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @adgpi

 

’آپریشن سندور‘ کی سالگرہ سے چند روز قبل ہندوستانی فوج نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے آپریشن سندور نے محض 22 منٹوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کر دیا تھا۔ فوج نے یہ بھی لکھا کہ ’’پختہ عزم، مشن پر مکمل توجہ۔ انصاف مل گیا، جلد اور درست۔ ثبوت بحث نہیں کرتے وہ فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ فوج کی اس ’ایکس‘ پوسٹ میں ایک تصویر بھی شامل ہے، جس کے کیپشن میں لکھا کہ ’’22 منٹ کی کارروائی اور پھر ان کی کمان تباہ ہو گئی۔‘‘ فوج نے اس سے قبل اتوار کو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’درست ہدف کو نشانہ بنانا۔ دہشت گردی پر وار اور پائیدار نتائج۔‘‘ اس پوسٹ کے ساتھ ’9 دہشت گرد ٹھکانے تباہ‘ اور ’ہندوستان نہیں بھولتا‘ جیسی سرخی والی ایک تصویر بھی تھی، جس میں آپریشن سندور کے تحت کیے گئے حملوں کے دوران ایک کمانڈ سنٹر کو دکھایا گیا تھا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردوں نے 26 بے قصور سیاحوں کو قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد فوج نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب انسانیت کی حدیں پار کی جاتی ہیں تو جواب فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اس حملے کے جواب میں ہندوستانی مسلح افواج نے 6 اور 7 مئی 2025 کو ’آپریشن سندورر‘ شروع کیا۔ اس کے تحت پاکستان مقبوضہ کشمیر میں واقع لشکر اور جیش محمد کے 9 کیمپوں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے تحت کی گئی کارروائی صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا ثبوت تھا۔ فوج نے اپنی پوسٹ میں ’آپریشن مہادیو‘ کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت 93 دنوں تک ہمالیہ کے دور دراز علاقوں میں تلاشی مہم چلا کر پہلگام حملے کے مرکزی ملزمان کو انجام تک پہنچایا گیا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined