
تصویر بشکریہ آئی اے این ایس
فرانس کے ساتھ رافیل لڑاکا طیاروں کے سودے کے لیےمنظوری کے بعد، ہندوستان اور یورپی یونین(ای یو)اب ایک انتہائی اہم سیکورٹی اور دفاعی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب گرین لینڈ پر امریکی صدر کی مشکوک نگاہوں نے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
Published: undefined
یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ اور سلامتی امور کاجا کالس نے اس معاہدے کے بارے میں معلومات کا اشتراک کیا۔ یورپی یونین کی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں کالس نے کہا کہ ہندوستان بھی اس معاہدے کے لیے تیار ہے۔ کالس، ایسٹونیا کے سابق وزیر اعظم، یورپی کمیشن کے نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ کالس نے یورپی یونین کی پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ذاتی طور پر نئی دہلی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
رپورٹس کے مطابق ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں بنیادی طور پر میری ٹائم، سائبر اور انسداد دہشت گردی پر توجہ دی جائے گی۔ اس سال، یورپی یونین کے صدر انتونیو کوسٹا اور کمشنر ارسولا وان ڈیر لیین یوم جمہوریہ کی پریڈ (26 جنوری، 2026) کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ یورپی یونین کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ان کے ساتھ دہلی جا رہا ہے۔ یوم جمہوریہ کی پریڈ میں یورپی یونین کے بحریہ کے اہلکاروں کا ایک دستہ بھی مارچ پاسٹ کرے گا۔
Published: undefined
درحقیقت یوکرین اور اب گرین لینڈ پر قبضے پر امریکہ اور یورپی ممالک شدید تنازع میں مصروف ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کسی بھی قیمت پر گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے پر بضد ہیں۔ یوکرین جنگ میں روس کے ساتھ نرمی برتنے پر یورپی ممالک خاص طور پر ٹرمپ سے ناراض ہیں۔ اب، یورپی یونین نیٹو کے رکن ڈنمارک کے خود مختار علاقے گرین لینڈ پر قبضے سے پریشان ہے۔ اس تناظر میں یورپی یونین کا ہندوستان کے ساتھ دفاعی اور سلامتی کا معاہدہ انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔
Published: undefined
اگرچہ ہندوستان نے اس معاہدے کے بارے میں زیادہ معلومات شیئر نہیں کی ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں، ہندوستان نے فرانس اور جرمنی جیسے اہم یورپی ممالک کے ساتھ بڑے دفاعی سودے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔گزشتہ ہفتے ہندوستان کی وزارت دفاع نے فرانس کے ساتھ 114 رافیل لڑاکا طیاروں کی مشترکہ خریداری کے لیے فضائیہ کو ہری جھنڈی دی تھی۔ اس معاہدے کے تحت فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ہندوستان میں 114 رافیل لڑاکا طیارے تیار کرے گی۔ اس سے پہلے ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ بحریہ کے لیے آبدوزوں کی مشترکہ تعمیر کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined