
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور سابق مرکزی وزیر ماحولیات جے رام رمیش نے سپریم کورٹ کے جسٹس اجول بھوئیاں کی ماحولیاتی قوانین اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تشویش کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے ترقی پسند ماحولیاتی قوانین کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ ان قوانین پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائے۔
جے رام رمیش نے جمعہ کو ایکس پر سپریم کورٹ کے جسٹس اجول بھوئیاں کی تقریر سے متعلق شائع شدہ اقتباسات شیئر کیے۔ جسٹس بھوئاں نے 8 اگست کو گوہاٹی میں وویکانند کیندر میں خطاب کے دوران ماحولیاتی قوانین اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے متعلق مقدمات میں عدالتوں کے طریقۂ کار پر اہم سوالات اٹھائے تھے۔
جے رام رمیش نے جسٹس بھوئیاں کے خیالات کو بروقت اور بہادرانہ انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں ہیں بلکہ ہائی کورٹس اور نیشنل گرین ٹریبونل کے لیے بھی اہم ہیں۔
سابق مرکزی وزیر ماحولیات نے کہا کہ جسٹس بھوئیاں کی بات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق سپریم کورٹ کا مسلسل غیر یکساں رویہ خود ماحول کے تحفظ کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کئی ترقی پسند ماحولیاتی قوانین بنائے ہیں، لیکن انہیں طویل عرصے سے نظرانداز کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
رمیش نے کہا کہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک کے ماحولیاتی قوانین پر ’’حرف اور روح‘‘ کے مطابق عمل کیا جائے۔
جسٹس اجول بھوئیاں نے اپنے خطاب میں اس سوال پر بھی غور کیا کہ جب شہریوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جائے کہ کسی ترقیاتی منصوبے نے ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے تو عدالتوں کو کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صرف اس بنیاد پر ایسے مقدمات کو ابتدائی مرحلے میں خارج نہیں کیا جانا چاہیے کہ بڑی تعداد میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے عدالتی چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض اوقات بے بنیاد یا غیر سنجیدہ درخواستیں بھی دائر کی جاتی ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس بنیاد پر ہر ماحولیاتی چیلنج کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ جسٹس بھوئیاں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے مسلسل آواز اٹھانے والے سنجیدہ ماہرین اور کارکن موجود ہیں۔ ایسے میں اگر عدالتیں ماحولیاتی شکایات کے لیے اپنے دروازے بند کر دیں تو شہری انصاف کے لیے کہاں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالتوں کی توجہ اس بات کا تعین کرنے پر ہونی چاہیے کہ کوئی ترقیاتی منصوبہ تمام مطلوبہ ماحولیاتی شرائط کی پابندی کر رہا ہے یا نہیں۔ عدالتوں کو شہریوں کو یہ یقین دلانا چاہیے کہ منصوبہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر صورت میں متعلقہ ماحولیاتی ضوابط کی پابندی کی جا رہی ہے۔
جسٹس بھوئیاں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ماحولیاتی تنازعات کے سلسلے میں عدالتوں کے فیصلوں میں مستقل مزاجی کا فقدان ہو تو اس سے ماحولیات کے تحفظ کے مقصد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے قانونی اصولوں کے مستقل اور واضح نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔