
تصاویر بشکریہ ایکس
نئی دہلی: مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے حالیہ چھاپوں کے خلاف جمعہ کے روز وزارت داخلہ کے سامنے احتجاج کر رہے ترنمول کانگریس کے آٹھ ارکان پارلیمنٹ کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے ارکان میں ڈیرک اوبرائن، مہوا موئترا، شتابدی رائے، ساکیت گوکھلے، کیرتی آزاد، پرتیما منڈل، باپی ہلدر اور ڈاکٹر شرمیلا سرکار شامل ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور مظاہرین کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
Published: undefined
احتجاج میں شامل ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت پر تحقیقاتی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر ’’امت شاہ کی ای ڈی بمقابلہ بنگال کے عوام‘‘ اور ’’چاہے جتنے حملے کرو، بنگال پھر جیتے گا‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ پولیس کارروائی کے دوران ڈیرک اوبرائن اور مہوا موئترا کو زبردستی پولیس وین میں بٹھایا گیا، جس پر وہاں موجود صحافیوں اور کارکنوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
ڈیرک اوبرائن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے اور یہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن تھا اور کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی، اس کے باوجود ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لینا سیاسی دباؤ کا مظہر ہے۔
Published: undefined
یہ احتجاج ای ڈی کی جانب سے غیر قانونی کوئلے کی کان کنی اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں کولکتہ اور دہلی میں پندرہ مقامات پر چھاپوں کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ ان چھاپوں میں آئی پیک نامی نجی کمپنی کے سربراہ پرتیک جین کی رہائش گاہ بھی شامل تھی، جسے ترنمول کانگریس اپنی انتخابی حکمت عملی سے جوڑ رہی ہے۔
لوک سبھا کی رکن مہوا موئترا نے الزام لگایا کہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے ای ڈی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور چھاپوں کے دوران اہم دستاویزات اور انتخابی ڈیٹا لوٹا جا رہا ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی تلاشی کے بہانے ترنمول کانگریس کی انتخابی حکمت عملی اور ڈیٹا چوری کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھاپے کے دوران وہ خود وہاں پہنچیں اور پارٹی کے کاغذات واپس لیے۔
ادھر ای ڈی نے ممتا بنرجی کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ تلاشی کے دوران دستاویزات اور ڈیجیٹل ثبوت زبردستی چھینے گئے، جو آئینی اختیار کا غلط استعمال ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined